حکومتی ٹیم کی سپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات،
تحریک انصاف کے خلاف شکایات کے دفتر کھول دیے، مذاکرات میں ڈیڈلاک کا ذمہ دار بھی قرار دیا، مولانا کا حکومت کا ذمہ داری اور سمجھداری کے مظاہرے کا مشورہ
اسلام آباد: پی ٹی آئی کے بعد حکومتی وفد بھی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے لیے ان کی رہائشی گاہ پہنچ گیا،
عمرے کی ادائیگی پر مبارک باد دینے کے علاوہ اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہفتہ اور اتوار کو ہونے والے مذاکرات پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کی، اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور اس سے درپیش خطرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا،
پہلے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ملاقات کے لیے امیر جے یو آئی کے گھر پہنچے اور ان کی آمد کے کچھ دیر بعد وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور رانا ثناء اللہ وہان پہنچ گئے، جس کے بعد عمرے پر مبارک باد کے حوالے سے ہونے والی ملاقات سیاسی ملاقات میں تبدیل ہو گئی،
ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومتی وفد نے عمرے کیہ ادائیگی پر مولانا کو مبارک باد پیش کی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئےانھیں متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ کیا،
ذرائع کے مطابق سرکاری وفد نے مذاکرات میں ڈیڈلاک یا ناکامی کی ذمہ اپوزیشن وفد پر ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے معاہدے کو ممکن بنانے کی پر ممکن کوشش کی گئی،
سپیکرن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ کہ انھوں نے بطور سہولت کار مزاکرات کی کامیابی کے لیے بھرپور کوشش کی،
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے عمرے کی مبارک باد دینے پر حکومتی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کتے،
انھوں نے کہا کہ ملکی حالات مشکلات کا شکار ہیں، ایسے سب کو مل کر ملک کو اس مشکل سے نکالنا ہو گا،
انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، اس کی راہ میں رکاوٹین کھڑی کرنا درست نہیں،