اپوزیشن اتحاد کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات،اے پی سی میں شرکت کی دعوت،
مولانا نے دعوت قبول کرتے ہوئے مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینے کا مشورہ دے دیا، لانگ مارچ پی ٹی آئی کا سیاسی جمہوری حق ہے ،فضل الرحمن
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کو پی ٹٰی آئی کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسائل کا حل ماننے سے انکار کردیا.
اپوزیشن اتحاد سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس وقت ملک کی ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے، رویوں میں شدت ہے، حکمرانوں کا حزبِ اختلاف کے جمہوری حقوق کے حوالے سے رویہ ہمارے مدنظر ہیے۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔
جہاں تک حکومت سے مذاکرات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ سیاسی لوگ، جمہوری لوگ، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم مذاکرات کے عمل سے اختلاف نہیں کرتے لیکن حکومتی رویہ ایسا ہے کہ انہوں نے آئندہ کے لیے کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
انھوں نے کہا کہ کچھ آپ مان جائیں اور کچھ ہم مان جائیں، تو اس جذبے کے ساتھ جب ہم بیٹھیں گے اور بات چیت ہوگی تو بات آگے بڑھے گی، مذاکرات سیاسی لب و لہجے میں ہونی چاہیے۔ اس کے اندر کسی پسِ پردہ قوت کی مداخلت نہیں ہونے چاہئیں۔
مولانا نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز آئی ہے،میں نے کہا کہ آپ بھی اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کر لیں اور ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کر لیتے ہیں، تاکہ ایک مشترکہ منشور کے تحت آل پارٹیز کانفرنس کی جا سکے اور مشترکہ ایجنڈا قوم کے سامنے رکھ سکے۔
انہوں نے کہا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سیاسی اور جمہوری حق ہے، حکومت کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت ضروری ہے،
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، سیاستدان مسائل کا حل نکالتے ہیں اور ون مین شو کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے کہا عوام اور ریاست کے درمیان جبر کا رشتہ ختم ہونا چاہیے، مہنگائی اور بے روزگاری سمیت تمام مسائل کا حل نکالنا ہوگا اور بانی پی ٹی آئی کے لیے آئین و قانون کی لڑائی جیتنی ہے۔