The news is by your side.

پی ٹی آئی قیادت کا کارکردگی سوالات کی زد میں، تبدیلی کی مہم زور پکڑنے لگی

بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور وقاض اکرم کی کارکردگی پر پارٹی میں شدید عدم اطمینان، محمود خان اچکزئی بھی تنقید کی زد میں، گورنر راج کو عدالت میں چیلنج کرنے میں تاخیر پر پارٹی کے اندر بے چینی،

0

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں موجودہ سیاسی صورتحال، ناقص سیاسی حکمت عملی، حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی،خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اس حکومتی اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے میں تاخیر پارلیمنٹ میں غیر موثر کارکردگی کا  معاملہ پارٹی کے اندر موجودہ قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ، قیادت کی تبدیلی کی مہم زور پکڑ گئی، 

ذرائع کے مطابق پارٹی کے چیرمین، سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری اطلاعات موجودہ حالات میں پارٹی کو منظم کرنے ، متحرک رکھنے اور قائدانہ صلاحیتں دکھانے میں ناکام ہو چکے ہیں جس سے پارٹی اندر مایوسی عروج ہر ہے اور کارکنان کسی واسض لائحہ عمل سے محروم ہیں

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے اندر ناکامی کا ذمہ دار بھی پارٹی قیادت کو قرار دیا جا رہا ہے اور اراکین کی یہ بھی رائے ہے کہ اگر چیرمین ان مذاکرات کو صحیح طرح ہینڈل نہیں کر سکتے تھے تو ابھیں اس عمل میں شمال نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ اپوزیشن وفد کی قیادت محمود خان اچکزئی کو کرنے چاہیے تھی ۔

ذرائع نے کہا کہ پارٹی ان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار محمود خان اچکزئی کو سمجھ رہی ہے جنھوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ہونے والے اتفاق رائے سے اختلاف کیا،

پارٹی کی رائے ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نٖفاذ میں تاخیر کیون کی گئی جبکہ یہ کام اگلے روز ہی ہونا چاہیے تھا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پارٹی بیرسٹر گوہر کہ قیادت میں قومی اسمبلی ، سینبٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی، گورنر راج اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے خلاف کوئی موثر احتجاج کرنے میں ناکام رہی،

پارٹی چیرمین نے اراکین پارلیمنٹ کے رابطوں کے باوجود پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے حوالے سے بھی کوئی رائے فراہم نہیں کی گئی، اراکیں ان سے پوچھتے رہے کہ وہ اسمبلی ، سینٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آئین یا نہیں چیرمین کی جانب سے انھیں کچھ نہیں بتایا گیئا،

ذرائع نے بانی چیرمین کی ملاقاتوں کی راہ میں موجودہ قیادت ہی کو  سب بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ قیادت جانتی ہے کہ اگر خان سے ملاقاتوں کا آغاز ہوگیا تو سب سے پہلے یہ قیادت فارغ ہوگئ،

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارٹی میں تحریک تحفظ آئین کے چیرمین محمود خان اچکزئی کے بارے میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں اور پارٹی رہنماوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ وہ بھی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں ، جنھوں نے بانی سے ملاقات کے معاملے پر فریقین کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کو ویٹو کیا،

ذرائع نے کہا کہ قیادت کی جانب سے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی گرفتاری کو عدالت میں چیلنج کرنے کے حوالے سے بھی کوئی دلچسپی دکھائی نہ دی یہ کام بھی سہیل آفریدی کے بھائی کو کرنا پڑا ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے 8 ہزار سے زائد کارکن مختلف مقدمات میں جیلوں میں قیادت ہیں جن کے مقدمات کی پیروی کے لیے پارٹی کی جانب سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جا رہی حالانکہ 90 کروڑ روپے کے فنڈز پارٹی کے پاس اسی مقصد کے لیے موجود ہیں

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.