علاقائی کشیدگی سے سفارتی فائدہ، پاکستان نے امریکا میں مؤثر کردار منوا لیا،
اپنی مضبوط سفارت کاری سے پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دے دی،عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کا اعتراف،
واشنگٹن:پاکستان نے اسٹریٹجک سمجھداری سے واشنگٹن میں خود کو دوبارہ ایک ناگزیر اور قابلِ اعتماد شراکت دار ثابت کر دیا،واشنگٹن میں پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کی بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی جانب سے تعریف،
اپنی مضبوط سفارت کاری سے پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دے دی،پاکستان نے علاقائی تنازعہ کو عالمی سفارتی فائدے میں بدل کر امریکا میں اپنی اہمیت منوائی ہے
بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف میں پل باندھ دیے،
دی ڈپلومیٹ کے مطابق بھارت جو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا تھا، اب 50 فیصد امریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سے محرومی کا شکار ہے
مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعہ پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد تعلقات گہری منجمد کیفیت میں داخل ہو گئے ہیں، دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے اسی بحران کو پاکستان نے سفارتی موقع میں بدلا اور صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا،
دی ڈپلومیٹ مزید لکھتا ہے کہ چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا،
ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا،ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان گفتگو سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی،
پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہو گیا اور تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی،
جبکہ جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا۔
دی ڈپلومیٹ نے مزید لکھا کہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کی پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری شامل ہے،