مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی گھنٹی بجا دی،
اوزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر بورڈ آف پیس پر دستخط کیے، ان شرائط کے باعث بورڈ آف پیس پر دستخط قبول نہیں
اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے انھوں نے احتجاجی تحریک چلانے کا اشارہ دے دیا ،
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن جو 27 ویں ترمیم کی بعض شقوں پر سخت نالان تھے اب حکومت کی جانب سے بورڈ آف پیس پر دستخط کے بعد مزید نالاں ہو چکے ہیں،
انھوں نے دو روز قبل قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ایوان سے بورڈ آف پیس کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تو دوسری جانب انھوں نے حکومت کے پاس کردہ 18 سال سے کم عمری کی شادی پر پابندی کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا بھی اعلان کر دیا ہے وہیں انھوں نے بورڈ آف پیس پر دستخط کے خلاف تحریک چلانے کی بھی دھمکی دے ڈالی ہے۔
جے یو آئی کے ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن جو پہلے ہی بعض معاملات پر حکومت کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے اب پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر بورڈ آف پیس پر دستخط کے بعد ان کا غصہ مزید گہرا ہو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کی دھمکی دینے پر مجبور ہو گئے ؛
جی یو آئی کے ذرائع کے مطابق جے یو آئی کی جانب سے عنقریب کسی احتجاجی تحریک کے امکان کا رد نہیں کیا جا سکتا، پارٹی قیادت نے اس معاملے پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے اور جلد اس حوالے سے کسی بڑے فیصلے کا امکان ہے ،
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جے یو آئی کی جانب سے کسی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جاتا ہے تو تحریک انصاف بھیئ اس کا فائدہ اٹھا کر میدان میں اتر سکتی ہے۔