The news is by your side.

ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں رجیم تبدیل کرتے کرتے اپنی لٹیا ڈبو بیٹھے

وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو تاریخی شکست نے امریکی سیاست کا پانسہ پلٹ دیا

0

واشنگٹن: امریکہ کے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو شکست دے کر کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اپنے دورِ صدارت کے باقی دو سال میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے سیاسی چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔

ابتدائی اور تازہ ترین دستیاب انتخابی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس اور ان کے ساتھ اتحاد رکھنے والے آزاد ارکان کو مجموعی طور پر 54 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ ریپبلکنز نے 44 نشستیں جیتی ہیں۔ سینیٹ کی دو نشستوں کے نتائج تاحال غیرحتمی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کے 435 میں سے 398 حلقوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں، جن کے مطابق ڈیموکریٹس نے 246 جبکہ ریپبلکنز نے 152 نشستیں حاصل کی ہیں۔ مزید 37 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی یا نتائج کے اعلان کا عمل جاری ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوان میں حکومت سازی کے لیے درکار 218 نشستوں کا ہدف بھی عبور کر لیا ہے۔

انتخابی نتائج کے بعد ڈیموکریٹس آئندہ دو برس کے لیے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں قانون سازی، کمیٹیوں اور حکومتی نگرانی کے امور میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔

سینیٹ میں تاریخی کامیابیاں

سینیٹ کے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کی سات اہم نشستیں اپنے نام کیں، جن میں ٹیکساس، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا، اوہائیو، کنساس، آئیووا اور مین شامل ہیں۔

ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کرلی۔ ٹیکساس میں 1988 کے بعد کسی ڈیموکریٹ امیدوار کی سینیٹ میں یہ پہلی کامیابی ہے۔

جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ اس ریاست میں 1998 کے بعد پہلی مرتبہ کسی ڈیموکریٹ نے سینیٹ کی نشست جیتی ہے۔

ریاست کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے کر تقریباً 94 سال سے جاری ریپبلکن کامیابیوں کے تسلسل کو ختم کردیا۔

آئیووا میں ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹوریک نے ایشلے ہنسن کو شکست دی، شمالی کیرولائنا میں روئے کوپر نے سینیٹ کی کھلی نشست جیت لی جبکہ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیراڈ براؤن نے ریپبلکن امیدوار جون ہسٹڈ کو شکست دی۔

ریاست مین میں ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن نے پانچ مرتبہ منتخب ہونے والی ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دے کر اہم کامیابی حاصل کی۔

جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف دوبارہ منتخب ہوگئے جبکہ نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹ امیدوار کرس پاپاس نے اپنی نشست برقرار رکھی۔

عبدالالسید امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب

انتخابات میں مسلمانوں کی امریکی سیاست میں نمائندگی کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالالسید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان ہیں جو سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

مسلمان امیدواروں نے کانگریس اور مختلف ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ الہان عمر نے مینیسوٹا سے پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کی جبکہ راشدہ طلیب، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن بھی دوبارہ منتخب ہوئیں۔

نیو جرسی سے آدم حماوی اور نیویارک سے داریا لیزا اویلا شیولیئر بھی امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والے نئے ارکان میں شامل ہیں۔

پنسلوانیا میں پاکستانی نژاد صحافی مریم صبیح نے بھی ریاستی قانون ساز اسمبلی کا انتخاب جیت لیا۔

گورنر انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو کامیابی

امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب بھی ہوئے۔ 5 نومبر کی صبح تک دستیاب انتخابی نتائج کے مطابق 34 ریاستوں کے نتائج سامنے آچکے تھے، جن میں ڈیموکریٹس نے 22 جبکہ ریپبلکنز نے 12 گورنر انتخابات جیتے۔

ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس باٹمز کامیاب ہوئیں۔ وہ امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر ہوں گی۔

ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا نے گورنر کا انتخاب جیت کر ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

نیو میکسیکو میں ڈیب ہالینڈ امریکی تاریخ کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب ہوئیں جبکہ فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز ریاست کے پہلے سیاہ فام ریپبلکن گورنر منتخب ہوئے۔

ڈیموکریٹس نے الاسکا، جارجیا، آئیووا، نیواڈا، اوہائیو اور ٹیکساس میں ریپبلکنز کے زیرانتظام گورنر کے عہدے بھی اپنے نام کیے۔

انتخابی نتائج پر ٹرمپ کا ردعمل

انتخابی نتائج کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو کامیابی پر مبارک باد دی، تاہم انہوں نے انتخابی شکست کو اپنی ذاتی ناکامی تسلیم کرنے سے گریز کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ خود انتخابی امیدوار نہیں تھے، اگر وہ بیلٹ پر ہوتے تو ریپبلکن کامیاب ہوجاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹرز کو ریپبلکن امیدوار پسند نہیں آئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ڈیموکریٹس کی قانون سازی سے اختلاف کی صورت میں وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکن جماعت کی شکست کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست کی وجہ جنگ ہے اور صدر ٹرمپ بھی اس کے انتخابی اثرات کا اعتراف کرچکے ہیں۔

ایران جنگ اور مہنگائی انتخابی نتائج پر اثرانداز

خبر رساں اداروں کی انتخابی جائزہ رپورٹس کے مطابق ووٹرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، پٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ایران جنگ اور حکومتی پالیسیوں پر تحفظات نے انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈیموکریٹس نے اپنی انتخابی مہم میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات، مہنگے ایندھن، حکومتی شفافیت اور بدعنوانی کے الزامات کو نمایاں کیا تھا۔

ریپبلکنز نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران بعض سماجی اور ثقافتی معاملات کو بھی اہمیت دی، تاہم انتخابات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹوں میں مہنگائی اور ایران جنگ ووٹرز کی نمایاں تشویش کے طور پر سامنے آئے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آئندہ دو سال اہم

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنے باقی دو سال کے دورِ صدارت میں قانون سازی کے حوالے سے ڈیموکریٹ اکثریت کا سامنا کرنا ہوگا۔

ڈیموکریٹک قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ نئی کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، حکومتی اخراجات، انتظامی فیصلوں اور دیگر معاملات کی تحقیقات کرے گی۔

سینیٹ میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس صدارتی نامزدگیوں، وفاقی عہدوں اور عدالتی تقرریوں کے عمل پر بھی اثرانداز ہوسکیں گے جبکہ ایوانِ نمائندگان میں انہیں کمیٹیوں اور حکومتی نگرانی کے معاملات میں اختیار حاصل ہوگا۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما ہیکم جیفریز کے نئے اسپیکر منتخب ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اگر وہ منتخب ہوئے تو امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔

دوسری جانب ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے آئندہ سال پارٹی کی ایوانی قیادت جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ریپبلکن جماعت میں نئی قیادت کے انتخاب کا مرحلہ بھی شروع ہونے کا امکان ہے۔

نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو اپنا کام شروع کرے گی۔ اس وقت تک موجودہ کانگریس کام کرتی رہے گی اور صدر ٹرمپ جنوری 2029 تک اپنے صدارتی عہدے پر برقرار رہیں گے۔

اہم ریاستی ریفرنڈمز کے نتائج

کانگریس اور گورنر انتخابات کے علاوہ 36 سے زائد ریاستوں میں تقریباً 150 مختلف ریاستی تجاویز اور ریفرنڈمز پر بھی ووٹنگ ہوئی۔

کیلیفورنیا میں ارب پتی افراد کے اثاثوں پر یکمشت پانچ فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو ابتدائی نتائج میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر آئیڈاہو میں اسقاطِ حمل کے حق کو وسعت دینے کی تجویز مسترد ہوئی جبکہ میزوری میں اسقاطِ حمل پر پابندی دوبارہ آئینی شکل دینے کی تجویز بھی ووٹروں نے مسترد کردی۔

بعض ریاستوں میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی خواتین کے کھیلوں میں شرکت سے متعلق پابندیوں کے حق میں بھی ووٹ سامنے آئے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے کانگریس میں سیاسی قوت کا توازن تبدیل کردیا ہے۔ ڈیموکریٹس کو اب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی نگرانی اور قانون سازی پر اثرانداز ہونے کا موقع ملے گا، تاہم صدارتی ویٹو کے اختیار کے باعث آئندہ دو سال میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان اختلافات اور سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.