The news is by your side.

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط

معاہدے کو ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ کا نام دیا گیا ہے ، دستخطی تقریب میں پاکستانی کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ محمد آصٖف نے کی ۔

0

دوحۃ: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے، مشترکہ پیداوار اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے کے لیے ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط 21 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کیے گئے۔ 

معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں کو یکجا کرنا، دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینا اور جدید دفاعی نظاموں کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

معاہدے کے تحت دفاعی پیداوار، تکنیکی تربیت، تحقیق اور ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور مشترکہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کی، جبکہ ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن آل ثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہاری بھی شریک ہوئے۔ ترکیہ کے ادارۂ دفاعی صنعت کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ہالوک گورگن نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مشترکہ تحقیق، تربیتی تبادلوں، صنعتی صلاحیتوں میں اضافے، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات سے استفادے کی خواہش کا اظہار کیا۔

قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’’بدر‘‘ نامی یہ معاہدہ دفاعی اور اقتصادی اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے چاروں ممالک اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دفاعی صنعت میں تعاون اور انضمام کو فروغ دے سکیں گے۔ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ معیار کے مطابق دیگر دوست ممالک کی شمولیت کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے ممالک دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ تاہم، ’’بدر‘‘ مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر دفاعی صنعت اور تکنیکی تعاون سے متعلق ہے؛ اسے کسی باہمی دفاعی ضمانت یا مشترکہ فوجی اتحاد کے معاہدے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.