سعودی عرب میں حوثی حملے تیز، دمام ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات نشانے پر،
حملوں میں دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا، شہریوں اور غیر ملکی کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ۔
دمام: سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں اور انٹرسیپٹ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ گرنے سے چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
حملوں میں دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہریوں اور غیر ملکی کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق بدھ کی شام دمام ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی باشندہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں سعودی، بھارتی، یمنی، بنگلہ دیشی اور نیپالی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حملے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کیا گیا اور متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق نقصان کا جائزہ لینے کے بعد جمعرات کو ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معمول کے مطابق بحال کردیا گیا۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق مشرقی صوبے میں واقع سعودی آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران ایک ڈرون کو روک لیا گیا، تاہم اس کا ملبہ گرنے سے ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے باوجود آئل فیلڈ کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔
سعودی عرب میں مقیم شہریوں نے دھماکوں کے بعد خوف اور بے یقینی کی کیفیت بیان کی۔ دمام اور الخُبر کے رہائشیوں کے مطابق دھماکوں کی آوازیں سن کر لوگوں نے اپنے اہل خانہ کی خیریت معلوم کی اور سرکاری ذرائع سے اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق جمعرات کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونز کو روک کر تباہ کیا گیا، جبکہ مشرقی صوبے میں بھی چار ڈرونز مار گرائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کرگیا ہے۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل پر میزائل حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے اگلے روز ٹرمینل فور پر بھی ایک حملہ ہوا، جس میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے۔ اکتوبر کے دوران سعودی ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں دو افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوئے تھے، جبکہ طائف میں ایک روکے گئے حوثی ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ سعودی آرامکو کی مختلف تنصیبات بھی حالیہ مہینوں میں حملوں اور آگ لگنے کے واقعات کی زد میں رہی ہیں۔
یمن میں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کئی برس تک نسبتاً سکون رہا، تاہم رواں سال جولائی میں حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ستمبر میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں یمنی حکومتی فورسز کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اتحادی فورسز نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے فضائی سفر، توانائی کی تنصیبات اور شہری آبادی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ اگرچہ سعودی فضائی دفاعی نظام متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم حالیہ واقعات نے اہم تنصیبات اور عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔