The news is by your side.

امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ انتظامیہ نے آئندہ کی حکمتِ عملی تیار کر لی

ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کی صورت میں کانگریس کو نظر انداز کر کے امیگریشن، ٹیرف، رائیٹرزرہائشی اخراجات اور وفاقی حکومتی بجٹ سے متعلق اقدامات اٹھانے کی تیاریاں۔

0

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول کے پیش نظر اپنے اہم حکومتی ایجنڈے کو ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، جبکہ انتظامیہ کو آئندہ تحقیقات اور کانگریس کی ممکنہ رکاوٹوں کا بھی سامنا ہو سکتا ہے

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام نے گزشتہ کئی ماہ سے ایسی حکمتِ عملی پر کام کیا ہے جس کے تحت کانگریس کی منظوری کے بغیر امیگریشن، ٹیرف، رہائشی اخراجات اور وفاقی حکومتی بجٹ سے متعلق اقدامات کیے جا سکیں۔

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر، بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ اور وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیر ول شارف سمیت اعلیٰ حکام اپریل سے اس منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ ان کا مقصد ایسے صدارتی احکامات اور انتظامی اقدامات کی نشاندہی کرنا ہے جن کے ذریعے صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر اپنے حکومتی اہداف حاصل کر سکیں۔

وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیر اور ان کی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے آئینی اختیارات کے تحت یکطرفہ طور پر کیا اقدامات کر سکتے ہیں، صدارتی اختیارات کی قانونی حدود کہاں تک ہیں اور ممکنہ عدالتی چیلنجز کی صورت میں ان اقدامات کا دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس اگر کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات، قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے اور حکومتی اخراجات کی ترجیحات محدود کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ کو تجارت، خارجہ پالیسی اور وفاقی حکومتی اداروں کے معاملات میں وسیع انتظامی اختیارات حاصل رہیں گے۔

ڈیموکریٹس کو امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ریپبلکنز کی اکثریت ختم کرنے کے لیے کم از کم چار اضافی نشستیں درکار ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو 218 کے مقابلے میں 214 نشستوں کی برتری حاصل ہے، جبکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کی نشستیں 53 اور ڈیموکریٹس کی 47 ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم سینیٹ کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ممکنہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریپبلکنز کانگریس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں تو وہ ابتدائی ایک یا دو ماہ تک ڈیموکریٹس کی قانون سازی کو ویٹو کر سکتے ہیں، تاہم بعد ازاں دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پانے کا امکان ہے۔

نیو یارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ ’پوڈ فورس ون‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ شاید ’’مسٹر ویٹو‘‘ بن جائیں گے اور پھر کسی مرحلے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ معاہدے بھی کر لیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ گزشتہ ایک ماہ سے ملک کے مختلف حصوں میں انتخابی جلسے کر رہے ہیں تاکہ کانگریس میں ریپبلکنز کی اکثریت برقرار رکھی جا سکے، جبکہ دوسری جانب ان کے اعلیٰ معاونین ممکنہ طور پر 2027 میں تبدیل ہونے والے سیاسی منظرنامے سے نمٹنے کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.