The news is by your side.

متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ،مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی کی مذمت، یکجہتی کا اظہار

اجلاس مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہوا ، شرکا کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا ، اجلاس میں اے پی سی کے اجلاس کے لیے کمیٹی قائم ، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان دوریوں کے خاتمے کے لیے بھی کمیٹی کا قیام

0

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن نے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سمیت دیگر اہم معاملات پر حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اسی ماہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان رابطوں اور اے پی سی کی تیاریوں کے لیے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی کردار کشی کے خلاف ان سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ مولانا کے خلاف جس انداز میں مہم چلائی جا رہی ہے، ایسا نہیں چلے گا، ہمیں آزمایا نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ماہ آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان رابطوں کے لیے بھی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مشترکہ طور پر مذمت کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس آئندہ سات سے دس روز میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔ کانفرنس کے لیے سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر، کامران مرتضیٰ، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور اسلم غوری پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے، جبکہ ایڈووکیٹ خالد یوسف اور اخونزادہ حسین یوسفزئی اے پی سی کے کوآرڈینیٹر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی، انتخابات میں مینڈیٹ چھینا گیا اور عدلیہ کی آزادی پر حملے کیے گئے۔ ان کے بقول ملک اس وقت غیر آئینی طریقے سے چلایا جا رہا ہے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔
علامہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اگر بانی پی ٹی آئی کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار تمام لوگ ہوں گے، خواہ ان کا تعلق سیاسی ہو یا غیر سیاسی قوتوں سے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں آ رہا، جو انتہائی تکلیف دہ اور تشویش ناک صورت حال ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچا، جس کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب محض شکوک و شبہات نہیں بلکہ یقین پیدا ہو رہا ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے سب کچھ ٹھیک نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف توانا آواز ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس قومی اتفاق رائے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوگی، جس میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی سیاسی اور دیگر قوتوں کو آئین کے تحفظ کے لیے آگے بڑھنے کی دعوت دی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اپوزیشن کے باہمی مشاورتی عمل کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی انداز میں مسائل کو اجاگر کر رہی ہے، لیکن اس کے جواب میں ذاتی نوعیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جنریٹر، کیبن اور کچن سے متعلق باتیں مضحکہ خیز ہیں۔ سیاسی اختلافات کا جواب سیاسی لب و لہجے میں دیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گزشتہ دس روز کے دوران مشاہدہ کیا ہے کہ حکومت بڑی بے بس دکھائی دیتی ہے۔ وہ قومی اور عوامی حقوق کی بات کر رہے ہیں اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی تو یہ مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی تحریک چلائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر کو وفاق کے ماتحت لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ سندھ کے جزیروں اور ساحلی پٹی کو بھی وفاق کے ماتحت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہوئے بھی انہوں نے خدشات ظاہر کیے تھے، اب وسائل کے حوالے سے ایک نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد کوئی تناؤ پیدا نہیں ہوا۔ معدنی وسائل اور صوبوں کے حقوق سے متعلق تحفظات وہ پہلے ہی اٹھاتے رہے ہیں اور اب ان کا مؤقف درست ثابت ہو رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سمیت دیگر معاملات پر انہوں نے قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی امانت کی بات کی ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.