قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ
صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی قرار، پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور مل کر چلنے کا فیصلہ، مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد میں لیا،
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت اجلاس، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ مسترد ، پارلیمنٹ میں مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ۔
جس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سلمان اکرم راجہ اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و آئینی صورتِ حال، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، منتخب حکومت کے خاتمے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اجلاس کے شرکاء نے خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ گرفتار رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھی جائے۔
اجلاس میں شرکا نے کہا کہ ۱۱ اکتوبر سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور منتخب حکومت کے خاتمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جائے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا