خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، کئی افراد زخمی
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف احتجاج، پولیس پر آنسو گیس اور فائرنگ کا الزام، صوبائی انتظامیہ کی تردید،باڑا بازار میں ہوئے احتجاج کے دوران مظاہرین نے نادرا دفتر کو نذر آتس کر دیا، آگ نامعلوم افراد نے لگائی ،پی ٹی آئی کا دعوی
پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے خاتمے اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیز ہو گیا جن کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپون میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے پولیس پر آنسو گیس اور سیدھی گولیاں چلانے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم صوبائی انتظامیہ نے فائرنگ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرکے صوبے کا انتظام براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو سیاسی اقتدار پر قبضے کا جواز قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے مطابق جھڑپوں کا سب سے سنگین واقعہ پشاور سے تقریباً 15 کلومیٹر دور باڑہ بازار میں پیش آیا، جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پارٹی کے اطلاعاتی سیکریٹری اکرام کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکز کو آگ لگا دی اور قریبی دفاتر میں بھی داخل ہوئے۔
صوبائی انتظامیہ کی ترجمان سمر ہارون بلور کے مطابق پولیس کی جانب سے گولی چلانے کے الزامات بے بنیاد اور غیر سنجیدہ ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے بعض گمنام اکاؤنٹس مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے یہ دعوے پھیلا رہے ہیں۔
سمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر محتاط اور متناسب انداز میں کارروائی کی۔ ان کے مطابق تقریباً 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باڑہ میں نادرا مرکز کو آگ لگانے کے واقعے کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا، جس میں ویڈیو شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق پشاور کے مختلف علاقوں میں پُرتشدد احتجاج کے دوران سرکاری، نجی املاک، گاڑیوں میٹرو بس، ایمبولینس کو آگ لگانے، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کرنے پر پولیس نے مختلف مقامات سے اب تک 30 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے، جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ہنگاموں پر اکسانے اور بدعنوانی کے الزامات بھی شامل ہیں۔ ان کی اہلیہ، تین بہنیں اور پی ٹی آئی کے متعدد کارکن بھی زیر حراست ہیں۔