ڈیرہ اسماعیل خان میں بدری تالاب کی بحالی کے کام کا آغاز.
منصوبے کا آغاز گاؤں برزوالی میں کیا گیا، جس کا مقصد آبی تحفظ اور موسمیاتی لچک کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے ،
اسلام آباد: ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں برزوالی میں بدری تالاب کی بحالی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو ریچارج پاکستان منصوبے کے تحت ایک اہم سنگِ میل ہے۔
اس اقدام کا مقصد علاقے کے اہم موسمی میٹھے پانی کے نظام کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ آبی تحفظ کو بہتر بنانا اور مقامی آبادیوں کی موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
پاکستان کو درپیش بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فطرت پر مبنی حل (Nature-based Solutions) میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے کہا، ’’پاکستان میں آنے والے سیلاب اور خشک
سالی بدلتے ہوئے موسمی حالات کی علامات ہیں، جو ہماری آبادی، ماحولیاتی نظام اور آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہے ہیں۔اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ فطرت کی پانی کو جذب، ذخیرہ اور منظم کرنے کی قدرتی صلاحیت کو بحال کرنا ہے۔
بدری تالاب جیسے ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری دراصل طویل مدتی موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں سرمایہ کاری ہے۔بدری تالاب پر عملی کام کا آغاز ریچارج پاکستان منصوبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے تحت ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت کے اہم اقدامات میں سے ایک پر عملی پیش رفت ہوگی۔
اس سے اس قدرتی ذخیرے کی پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ میں بہتری اور موسمیاتی لچک کو استحکام ملے گا۔
بحالی کے کام کا آغاز تفصیلی تکنیکی جائزوں، حکومتی شراکت داروں اور مقامی آبادیوں کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، تاکہ یہ اقدام ماحولیاتی ضروریات کے ساتھ ساتھ مقامی ترجیحات سے بھی ہم آہنگ ہو۔
ریچارج پاکستان 72.9 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سات سالہ موسمیاتی موافقت کا منصوبہ ہے، جسے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری اور وزارتِ آبی وسائل کے تحت وفاقی فلڈ کمیشن کے اشتراک سے نافذ کر رہا ہے۔
اس منصوبے کو گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) دی کوکا کولا فاؤنڈیشن اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی معاونت حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں جاری اس منصوبے کا مقصد فطرت پر مبنی حل کے ذریعے سیلاب اور خشک سالی کے خطرات میں کمی، زیرِ زمین پانی کے ری چارجنگ میں بہتری، تباہ حال ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پاکستان میں موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا ہے۔