ایف بی آر اصلاحات بارے ہفتہ وار جائزہ اجلاس،
پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ،
اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں محصولات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے ایک جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرنے اور پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کاروائی کا فیصلہ،
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے نصب شدہ ٹریکنگ نظام فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے.اس ضمن میں چئیرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں.
وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے تمام تر ضابطوں کی پابندی کرنے اور ٹیکس جمع کروانے والے افراد و کاروبار ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور لائق تحسین ہیں. حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے برآمدی اور مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کی اور آئندہ کیلئے بھی کرتی رہے گی،
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے، انھوں نے کہا کہ ایف بی آر میں افسران کی جانچ کا نیا نظام لائق تحسین ہے، میرٹ اور شفافیت اولین ترجیح رہے گی.
ا