پاکستان ، ویسٹ انڈیز پہلا ٹیسٹ میچ، شاہینوں کو ایک اور شکست
قومی ٹیم دونوں اننگز میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے دونوں اننگز میں دیے گئے معمولی ٹارگٹس کو عبور کرنے میں ناکام رہی
اسلام آباد: ٹیلنٹ اور جذبے سے عاری ٹیم شکست نہ کھاتی تو اور کیا کرتی،
گمنام کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کو انٹرنیشنل میجز میں شرکت کے لیے بیرون ملک بھیجنا ملک کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے جس پر زمہ داروں کے خلاف ایکشن نہایت ضروری ہے تاکہ اس قسم کی پریکٹس کا تدارک ہو سکے ،
ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی شرمناک رہی، اور دونوں اننگز میں شاہینوں نے بدترین پرفارمنس کے جھنڈے گاڑھے،
پاکستان ٹیم نہ ویسٹ انڈیز کا پہلی اننگ کا 311 رنز کا ہدف جو ناقابل تعاقب نہ تھا عبور نہ کر سکی اور بہت اچھے آغاز کے بعد 282 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور اس کے بعد دوسری اننگز میں تو اس نے انتہائی بری، غیر ذمہ دارانہ اور شرمندگی سے بھرپور کارکردگی کا ایک اور ریکارڈ قائم کر دیا دوسری اننگ میں قومی ٹیم صرف 120 رنز ہی بنا پائی اور 90 رنز کی برتری سے یہ ٹیسٹ تھالی میں رکھ کر میزبان ٹیم کو دے دیا،
کرکٹ کی تاریخ ایسے ریکارڈز سے بھری پڑی ہے جب تن تنہا کپتانوں نے اپنی قائدانہ پرفارمنس سے اپنی ٹیموں کو میچ جتوائے، لیکن پاکستانی کپتان بابر اعظم جو اس اننگ میں ناٹ آوٹ رہے ایسا کرنے میں ناکام رہے