صدر ٹرمپ پھر جنگ کے راستے پر، معاہدہ وقت کا ضیاع قرار، ایران پر حملوں کا اعلان
پاکستان امریکی صدر کے رویے سے پریشان، معاہدے کو برقرار رکھنے اور تحمل کے مظاہرے کا مشورہ،
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جارحانہ رویہ ، مفاہمتی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اسے توڑنے کے لیے سرگرم ہو گئے، ایران کے خلاف آج رات ہی حملوں کا اعلان،ایرانی قیادت نے بھی بھرپور اور منہ توڑ جواب کا ارادہ ظاہر کر دیا،پاکستان امریکی صدر کے رویے سے مایوس، فریقین کو تحمل کے مطاہرے کا مشورہ،
واضح رہے کہ ایک جانب ایرانی قوم اپنے شہید رہبر آیت اللہ علی خامنائی کے سوگ اور ان کی تدفین کے عمل میں مصروف ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ایک بار پھر خطے پر جنگ مسلط کرنے کے جنوں میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں،
یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو مفاہمتی معاہدے کے طے پانے سے قبل اس کے لیے بہت بیتاب دکھائی دیے، اس کے لیے وہ ازخود جنگ بندی کی تاریخوں میں توسیع کرتے رہے، بلکہ ایک مرحلے پر انھوں نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا،
لیکن دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں اس کی دھجیاں آڑا دیں، انھوں نے نہ صرف ایرانیوں پر بے سروپا الزام تراشیاں کین بلکہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ہی وقت کا ضیاع قرار دے دیا اور ساتھ ہی انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ جنگ بندی ختم ہوگئی،
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم کرنا ہی تھی تو ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ ہونے سے قبل پابندی کو برقرار رکھنے کے لیے اتنے بے قرار کیوں تھے،
دوسری جانب پاکستانی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کے اس روپے سے خاصی پریشان ہے، اس کے مطابق ٹرمپ کا یہ رویہ بلا جواز ہے ،
ایک اعلی حکومتی عہدیدار کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیا جا ریا ہے ، کوشش ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور جنگ سے گریز کریں