The news is by your side.

مہاجر نشستوں کا معاملہ،تبدیلی کیلئے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر قرار۔

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کر دیا، اور احتجاجی سیاست مسترد کر دیا،

0

اسلام آباد: ازاد جموں و کشمیر میں حالات خراب، کشمیر ایکشن کمیٹی کے ارکان اور ان کے ہمراہ احتجاج میں ملوث عوام کے خلاف بھرہور ایکشن کے احکامات جاری کر دیے گئے  ، اسلام آباد اور پنجاب پولیس کو بھی ریاست میں بھی امن و مان برقرار رکھنے کے لیے  روانہ کر دیا گیا،

ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے کئی اہلکاروں کی جانب سے کشمیر جانے سے انکار کر دیا گیا، جن کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے،

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کیا اور احتجاجی سیاست مسترد کر دی، عدالت نے قرار دیا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کیلئے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔

صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46 اے کے تحت یہ صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کو ارسال کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر  نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی نوعیت کے معاملات منتخب اسمبلی کے دائرہ اختیار میں رکھے جائیں۔

 

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.