ملک میں منشیات کے عادی افراد کا کوئی ٹھوس سرکاری ڈیٹا موجود نہیں۔
آخری ملک گیر سروے 2012 میں ہوا جس کے مطابق ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 67 لاکھ ہے،
اسلام آباد : پاکستان میں منشیات کے استعمال کے واقعات اور اس لت میں مبتلا افراد کی تعداد میں تو خطرناک حد تک اضافہ ہوا لیکن ملک گذشتہ 15 سال سے اس بارے میں کسی ملک گیر سروے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی گئی یہی وجہ ہے کہ وزارت انسداد منشیات کے باعث منشیات کے عادی افراد کا کوئی قابل اعتماد کا ڈیٹا موجود نہیں ،
اردو نیوز انٹرنیشنل ( یو این آئی ) کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان میں آخری بار منشیات کے استعمال سے متعلق سروے 2012ء میں کروایا گیا ،
یہ سروے اقوام متحدہ کے ادارے برائے منشیات و جرائم کی جانب سے کیا گیا ، جس کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد67 لاکھ تھی ،
دستاویز کے مطابق اس کے بعد اس موضوع پر کوئی تازہ سروے نہیں کراویاگیا ،
اعلی سرکاری حکام کے مطابق سرکاری سطح پر کوئی تازہ سروے نہ ہونے کے باعث اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس عرصے کے دوران پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں یا اس کے عادی افراد کی تعداد میں اب تک کتنا اضافہ ہوا ،
ذرائع کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اس سال پاکستان شماریات بیورو کو وزارت انسداد منشیات اور اے این ایف کے اشتراک سے نیاقومی سروے کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کی تکمیل اسی سال کے دوران ہوگی ،
ذرائع کا کہنا ہے کہ سروے پر عملدرآمد جاری ہے اور اس مرتبہ اس میں گھریلوسطح ، ہائی رسک گروپس اور تعلیمی اداروں کو شامل کیا جارہا ہے تاکہ ملک میں منشیات کے استعمال اور برائی میں مبتلا افراد کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمارمرتب کیے جا سکیں,
حکومت کے پاس 15 ہزار یوتھ ایمبیسیڈرز رجسٹرڈ ہیں جس کا مقصد نوجوانوں میں ؤگاہی پیدا کرنا ہے ،