دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، 26 خوارج ہلاک۔
ان کاروائیوں کے دوران چار اہم اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، اسلحہ اور گولا بارود کا بڑا ذخضیرہ بھی برآمد کر لیا گیا، وزیر اطلاعات عطا تارڑ۔
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر، جوابی کارروائی سے متعلق اہم بیان،
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاک افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے اہم دہشت گرد ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا،
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ان کارروائیوں میں بھارت کے حمایت یافتہ 26 خوارج ہلاک ہوئے،انھوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں 9 جون 2026 کو موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر حملے، 2 جون 2026 کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی 2026 کو بنوں پولیس اسٹیشن پر خودکش حملے کے بعد کی گئیں،
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مستند خفیہ معلومات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے کیمپوں اور ٹھکانوں پر انتہائی مؤثر انداز میں کارروائی کی گئی،اس دوران چار اہم اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک محفوظ ٹھکانہ، اسلحے اور گولہ بارود کا ذخیرہ، اور فتنہ الخوارج کے کمانڈروں علیم خان خوشحالی اور اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل تھے،
انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے،
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ ویژن "عزمِ استحکام” کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھیں گے،
وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ملک سے مکمل خاتمہ کیا جا جائے گا،