The news is by your side.

اسرائیل اور ایران کے پھر ایک دوسرے پر حملے،

صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کو تحمل کے مظاہرے کا مشورہ دے دیا ، امریکہ حملوں میں حصہ نہیں لے گا، نیتن یاہو کو جواب، ایران مذاکرات کی پر آئے اور معاہدہ کرے، امریکی صدر

0

اسلام آباد:  مشرق وسطی کی صورتحال۔امن کی کوششیں  اور جنگ ساتھ ساتھ جاری، اسرائیل کے لبنان پر حملے تو دوسری جانب ایران کا اسرائیل کا کرارا جواب، 

تاہم ایرانی جواب کے بعد اسرائیل کی طرف سے ایران کے مختلف شہروں جن میں تہران ، تبریز ، اصفہاں اور کرج شامل ہیںپر میزائل داغے گئے جن کے نیتجے میں دور دور تک دھماکوں کی آوازایں سنی گئیں، ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو مزید حملوں سے روک دیا، جبکہ ایران کو کہا کہ ایران نے اپنے میزائل داغ دیے بس اتنا کافی ہے،

صدر ٹرمپ اس کشیدگی میں مفاہمانہ کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، ان کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ ان حملوں کے مزید پھیلاو کے حق میں نہیں بلکہ امن کے قیام میں دلچسپی رکھتے ہیں،

انھوں نے اپنے بیان میں ایران کو مشورہ دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں،

امریکی صدر نے اپنے بیان میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر جنگ بندی کی۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف آپریشن نصر کا آغاز کر دیا ہے

امریکی سینٹر کرس مرفی نے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے صدر ٹرمپ کو شرمندہ کیا ہے، نیتین یاہو نے صدر ٹرمپ کی بات نہیں مانی اور حملہ کر دیا ، انھوں نے کہا کہ ایران جنگ صدر ٹرمپ اور امریکہ کے لیے رسوائی کا باعث بنی،

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی  برطانیہ، ترکیہ کے حکام  اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اور انھیں تازہ تریں صورتےحال سے آگاہ کیا،اسرائیل

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.