گلگت بلتستان الیکشن،انتخابی مہم کا آج آخری روز، 7 جون کو پولنگ کی تیاریاں مکمل۔
24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 403 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 272 آزاد امیدوار بھی شامل، مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر 131 امیدوار انتخابی دوڑ کا حصہ۔
گلگت: الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان الیکشن، امیدواروں کے لیے انتخابی مہم عروج پر، آج مہم کا آخری روز، مہم کا وقت رات 12 بجے ختم ہو گا، خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے 7 جون کو پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور تین نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔
دیامر اور سکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ نگر اور استور کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔
گلگت اسمبلی کی ان 24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 403 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 272 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کے لیے اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر 131 امیدوار انتخابی دوڑ کا حصہ بنے ہیں۔
سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) 23 امیدواروں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 22 امیدواروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11، اسلامی تحریک پاکستان اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے 10، 10 جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
مجلس وحدت المسلمین کے 7، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے 6، 6 جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔
یہان یہ بات قبل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اس الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا گیا،