The news is by your side.

عنوان: گلگت بلتستان میں الیکشن کا کھیل۔۔۔۔۔

0

عنوان: گلگت بلتستان میں الیکشن کا کھیل۔۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔   ابنِ سرور

ان دنون گلگت بلتستان میں الیکشن الیکشن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ، افسوس تو اس بات پر ہے کہ الیکشن کے نام پر دن دیہاڑے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہو رہی ہے مگر کسی میں جرت نہیں کہ اس کے آگے بند باندھ سکے،

یہ بات واضح طور پر نظر آ رہی  ہے کہ ایک جماعت کو زبردستی الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے سب کو یہ بھی یقین ہے کہ جس جماعت کو روکا جا رہے اصل میں وہی عوام میں مقبول ترین جماعت ہے اور الیکشن جیتنے کی طاقت رکھتی ہے، مگر نہ صرف اس کو الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ جماعتوں میں شامل نہیں کیا بلکہ اس کو انتخابی نشان بھی نہ مل سکا اور پاکستان کے فروری 2024 کے عام انتخابات کی طرح اس کے امیدواروں کو  یہاں بھی آزاد حیثت میں الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کر دیا گیا،

پھر جب الیکشن مہم کا آغاز ہوا تو ای حکمت عملی کے تحت پی ٹی آئی کے رہنماوں کو اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے سے بھی روکا گیا اور نہ صرف انھیں جی بی جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی بلکہ ان کو گرفتار کر کے علاقہ بدر بھی کرنے سے گریز نہ کیا گیا،  ایسے ہی ہتھکنڈوں کے باعث اسد قیصر  گلگت بلتسنان نہ پہنچ سکے،

ان کے بعد سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بعض ساتھیوں کے ہمراہ جی بی جانے کی کوشش کی تو انھیں خیبر پختونخواہ کی پولیس  نے ہی راستے میں روک لیا، یہ سب کے لے حیران کن تھا کہ جہاں تحریک انصاف  کی اپنی حکومت ہے اُس صوبے کی پولیس پی ٹی آئی رہنماوں کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے، اور ان رہنماوں کو سفر جاری رکھنے کے لیے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی مدد لینی پڑ رہی ہے،

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لے رہی ہے ، اس سلسلے میں ن لیگ کے قائد نواز شریف بذات خود جی بی پہنچے ہیں اس دورے میں وفاقی وزیر احسن اقبال کے علاوہ ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر بھی انتخابی مہم میں شرکت کے لیے جی بی مین مجود رہے،

پیپلزپارٹی کی جانب سے اس کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے گلگت بلتستان کے دورے پر تھےجبکہ ق لیگ کے مرکزی رہنما غلام مصطفی ملک بھی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسی علاقے میں موجود ہیں اگر کسی جماعت کی قیادت کو رکاوٹوں کا سامنا ہے تو وہ ہے پاکستان تحریک انصاف اور عوام میں اس زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی جرت نہیں، قانون کے ادارے بھی اس جماعت کے ساتھ ہونے والی ان کاروائیوں پر خاموش ہیں اور بااختیار لوگوں سے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ تمام جماعتوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کیوں موجود نہیں،

اب یہ بات واضح دکھائی دے رہی ہے کہ یہاں دو جماعتوں کی کھلم کھلا حمایت کی جا رہی ہے اور ان کو الیکشن لڑنے کے بھرپور مواقعے فراہم کیے جا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کو شکست سے دوچار کرنے کے لیے کوئی کسر چھوڑی نہیں جا رہی،

لگتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی طرح گلگت بلتستان کے عوام بھی مجیوز ہین کہ سامنے اور دن کے اجلے میں نظر والی زیادتیوں کے خلاف بھی کسی میں احتجاج کی جرت نہیں، ان لوگوں کو بھی اس بات کا ادراک نہیں کہ ان پر ہینڈ پکڈ نمائندے اور حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے ،

پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کا ایک انتخابی جلسے میں دیا گیا یہ بیان بڑا معنی خیز ہے کہ  تم فارم 45 لے آو فارم 47 میں تمہیں دوں گا ، ان کا یہ بیان اس بات کا واضح  اظہار ہے کہ فارم 47 صرف کوئی الزام نہیں بلکہ واقعی اس کا وجود ہے، جس کا اعتراف بلاول بھٹو کھلم کھلا نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے کر رہے ہیں،

اس ملک کے ساتھ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہ بات تو اب حکومت میں شامل لوگ بھی ماننے لگے ہیں کہ ملک میں فارم 47 والوں کی حکومت ہے اور فارم 47 میں ووٹون کی غلط تعداد کا اندارج کر کے اس حکومت کو برسرااقتدار لایا گیا ہے، اور جو حیقیی معنوں میں الیکشن جیتنے والی جماعت ہے اس کی قیادت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے،

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.