بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کو ایک ہزار دن مکمل،
کسی مقدمے میں مجرم ثابت نہ کیا جا سکا، نہ ہی رہائی دی گئی، پارٹی بھی رہائی کے لیے کچھ نہ کر سکی ، خان پارٹی اور عدالتیں دونوں سے مایوس، بیوی سمیت آنکھوں کے عارضے میں بھی مبتلا، مرضی کے علاج سے محروم۔
اسلام آباد: سابق وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان کو پابند سلاسل کیے ایک ہزار دن مکمل ہو گئے،
اس عرصے کے دوران عمران خان نے ہمت ، جرت و بہادری ، استقامت اور عزم و حوصلے سے جیل کاٹنے کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی،
وہ اس انداز سے جیل کاٹنے کے بعد ایک اور سابق وزیر اعظم اور بانی چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ دوسرے سیاستدان بن گئے جنھوں نے ہر طرح کے ظلم کو برداشت کیا مگر سر جھکانے سے انکار کیا،
ان کی گرفتاری 9 مئی 2023 کو عمل میں لائی گئی اس سے قبل ن لیگی حکومت کی جانب سے ان پر سینکڑوں مقدمات قائم کیے گئے جس کا مقصد انھیں باقی ماندہ زندگی جیل میں گزرنے پر مجبور کرنا تھا،
ایک ہزاردنوں کے دوران اس ملک کی عدالتیں انھیں انصاف دینے میں ناکام رہیں اور ان کے مقدمات کے فیصلے نہ کیے جاسکے، جن مقدمات مین انھیں بے گناہ قرار دیا گیا ان میں ان کو رہائی نہ ملی جن میں ضمانتیں ہوئیں ان میں بھی ان کو رہا نہ کیا گیا،
ان پر بنائے گئے کیسوں میں کرپشن ، دہشت گردی کے علاوہ عدت کا مقدمہ بھی شامل تھا,
عدت کیس،سائفر، توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ میں سزا ہوئی، جن کی اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئیں، ہائیکورٹ نے عدت اور سائفر کیس میں سزائیں کالعدم قرار دے دیں، جبکہ توشہ خانہ ٹو اور 190 ملین پاؤنڈ والی اپیلیں زیر سماعت ہیں،جن پر تاحال فیصلے نہ کیے جا سکے،
انسداددہشتگردی عدالت میں احتجاج کے علاوہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں جج دہمکی کیس سمیت دیگر کئی کیسز زیر سماعت ہیں، اور ابھی بنکنگ کورٹ میں فارن فنڈنگ کیس کا چالان جمع کرایا گیا ہے،
ان کیسز کی سماعت میں تاخیر معنی خیز ہے