تحریک تحفظ آئین نے امریکی صدر کا ابراہیم کارڈ پر دستخط کا مطالبہ مسترد کر دیا،
اپوزیشن اتحاد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے بارے میں فوری اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا،
اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد ‘تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کے مطالبے کو مکمل طور پر رَد کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اس پر فوری اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا،
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر امن معاہدہ کو مشروط کرنا ، اس جنگ کے پیچھے اسرائیلی ایجنڈے کا واظح ثبوت ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف پاکستان کے 24 کروڑ عوام بلکہ پوری اسلامی دنیا، اور بالخصوص اسرائیلی بربریت اور نسل کشی کا شکار مظلوم فلسطینیوں کے 80,000 سے زائد شہدا کے خون کا قرض اور امانت ہے ۔
نام نہاد ‘ابراہیمی معاہدہ’ دراصل اسرائیلی جارحیت اور غنڈہ گردی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ایک دھوکہ ہے ، جس کا بنیادی مقصد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر امتِ مسلمہ کے متفقہ موقف میں دراڑ ڈالنا اور تفریق پیدا کرنا ہے ۔
جن ممالک نے بھی اس معاہدے کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا ہے، وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے کوئی بھی ٹھوس روڈ میپ، یقین دہانی یا عہد حاصل کرنے میں نہ صرف بری طرح ناکام رہے ہیں بلکہ دورِحاضر کے سب سے بڑے انسانی المیہ ، فلسطینیوں کی نسل کُشی تک کو رکوانے میں بھی ناکام رہے۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان کے عوام کا حقیقی ترجمان ہونے کی حیثیت سے یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی عوام اس معاملے پر بے حد حساس اور اضطراب میں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران امریکہ کشیدگی کے دوران بھی مسلکی دیواریں گرا کر ایران کے ساتھ تاریخی یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔