مہمان نہ آئے، جڑواں شہروں کے رہائشی سیکورٹی اقدمات کے باعث مشکلات کا شکار۔
ایرانی اور امریکی وفود کی آمد یقینی نہ ہونے تک پابندیوں کو نرم کر کے عوام کی پریشانیوں کو دور کیا جائے ، عوام کا مطالبہ
اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ڈائیلاگ کے تحت مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار ، پیر کے بعد منگل، منگل کے بعد بدھ اور اب جمعرات کے روز بھی ان مذاکرات کے انعقاد کا معدوم سا امکان ہے ،
واضح رہے کہ پاکستان کے ثالثی کے کردار کے باعث پاکستانی عوام اس پراسیس سے بیحد جڑے ہوئے ہیں لیکن اس حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کی حالت زار بیان سے باہر ہے ،مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور اس کی طوالت نے انھیں اور زیادہ الجھن کا شکار کر رکھا ہے ،
بلخصوص اسلام آباد کے ریڈ زون کے اطراف آباد شہری اور راولپنڈی میں نور خان ائیربیس کے قریب کی آبادیوں کے باسی سب سے زیادہ عذاب سے دوچار ہیں ، یہ علاقے انتہائی حساس یونے کے باعث نقل و حمل کے حوالے سے سخت پابندیوں کی زد میں ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کے رہائشیوں کو اپنے معمولات زندگی کی ادائیگی میں سخت دشواریویں کا سامنا ہے،

باوجود اس کے لیے مذاکرات کے شیڈول کا تعین نہ ہونے کے ساتھ ساتھ ممانوں کی آمد کے وقت کا بھی کوئی تعین نہیں اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ یا پولیس عوام کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں،
عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ جب تک مہمانوں کی آمد کی ٹھوس یقین دہانی نہیں ملتی اس وقت تک ان پابندیوں کو ہٹایا جائے،
عوام نے جا بجا پولیس ناکوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جڑواں شہر راولپنڈی ، اسلام آباد پولیس سٹیٹ بن کر رہ گئے ہیں اور یہ ناکے امن و امان یقینی بنانے یا شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کم بلکہ ان کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے زیادہ استعمال ہوتے ہیں،