ایران کا ٹرمپ کے بیانات پر غیرلچکدار رویہ ، جے ڈی ونیس کا دورہ پاکستان موخر۔
ایران کے مثبت جواب پر فیصلہ تبدیل ہقو سکتا ہے ( امریکی اخبار)۔ مذکرات کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں میں تیزی ، جنگ سے فرار کسی کے مفاد میں نہیں ، پاکستان
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل جارحانہ بیانات اور ان کے حلاف ایران کا غیر لچکدار رویہ، اسلام آباد ڈائیلاگ کھٹائی میں پڑ گئے، امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو ختم نہ کیا جانا بھی مذاکرات کے دوسرے دور میں تعطل کا باعث بن گیا،
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کا کوئی مثبت جواب نہ آنے کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان موخر کر دیا گیا ہے تاہم اخبار نے کہا کہ ایران کے مثبت جواب کی صورت میں دورہ ممکن ہو سکتا ہے،
مذاکرات ممکن نہ ہونے کے باعث دونون ملکوں کی درمیان جنگ کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے کیونکہ دو ہفتے کی سیز فائر کی معیاد اب سے چند گھنٹون بعد ختم ہو رہی ہے،
سیز فائر کی معیاد ختم ہونے کے بعد صورتحال کیا ہوگی اس کے بارے میں کسی جانب سے کوئی واضح بات نہیں کی جا رہی،
تاہم پاکستان سیز فائر میں مزید توسیع کے لیے متحرک ہو چکا ہے ۔ اس سلسلے میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی حکام سے رابطہ کر کے سیزفائر کی مدت میں مزید توسیع کی پیش کش کی ہے جبکہ امریکی صدر کی جانب سے سیز فائر میں مزید توسیع کرنے کے حوالے سے کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی گئی،
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کو ممکن بنانے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات میز پر لانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جمعرات یا جمعے کو ہو سکتا ہے،
بات چیت سے فرار دونوں میں سے کسی کے بھی فائدے میں نہیں ، پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں جلد مثبت نتائج سامنے آئین گے۔