دہلی میں تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے کا سلسلہ جاری،20 کالجوں کو اُڑانے کی تازہ دھمکی۔
دھمکیوں کو لے کر پولیس میں ہلچل، بم اسکواڈ کا سرچ آپریشن جاری,گزشتہ ایک ہفتے میں 100 سے زائد اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں
بھارت کے شہر دہلی میں تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے کا سلسلہ جاری ، تازہ دھمکی میں شہر کے 20 کالجوں کو بم سے اُڑانے کا اعلان ، تاہم دھمکی دینے والے اب تک کسی بھی سکول کے خلاف اپنی ان دھمکیوں عملی جامعہ نہ پہنا سکے لیکن دوسری جانب حکومت اور والدین مسلسل خوف کی کیفیت میں مبتلا،
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان دھمکیوں کو لے کر پولیس میں ہلچل، بم اسکواڈ کا سرچ آپریشن جاری,گزشتہ ایک ہفتے میں 100 سے زائد اسکولوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں، دہلی کے اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں کو بار بار مل رہی دھمکیوں نے صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ نئی دھمکی کے بعد دہلی میں ایک بار پھر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا۔ اس بار چانکیہ پوری کے جیسس اینڈ میری کالج سمیت 20 سے زیادہ کالجوں کو بم سے اُڑانے کی دھمکی بھرا ای میل موصول ہوا، جس سے پولیس محکمے میں کھلبلی مچ گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیمیں بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کے ساتھ فوری طور پر ان کالجوں میں پہنچیں اور تلاشی مہم شروع کر دی۔
کئی گھنٹے جیسس اینڈ میری کالج میں جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے دوران کسی بھی کالج کیمپس سے کوئی مشتبہ شئے یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ دھمکی فرضی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وی پی این کا استعمال کیا تھا۔
اس دوران جانچ میں انکشاف ہوا تھا کہ ای میل ‘ٹیررائزرس 111’ نامی گروپ کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جس میں 25 ہزار امریکی ڈالر اور 5 ہزار ڈالر کی کرپٹو کرنسی کا تاوان طلب کیا گیا تھا۔ فائر بریگیڈ اور پولیس ٹیموں نے تمام مقامات کی مکمل تلاشی لی، لیکن کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ فی الحال پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
یہ مسلسل بڑھتی ہوئی فرضی دھمکیاں نہ صرف طلبہ اور والدین کو پریشان کر رہی ہیں بلکہ پولیس وسائل کا بھی ضیاع ہو رہا ہے۔