The news is by your side.

حسینہ واجد کو فون یا خرابی صحت بنگلا دیشی صدر مستعفی

شہاب الدیں نے استعفے کی تصدیق کر دی، مستعفی صدر کو تعلق عوامی لیگ سے تھا ، موجودہ حکومت کی جانب سے بھی ان پر استعفے کے لیے دباو تھا،

0

ڈھاکہ: جلا وطن سابق وزیر اعظم حسینہ واجد سے خفیہ ٹیلی فونک گفتگو یا خرابی صحت، بنگلا دیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی،

اس حوالے سے ذرائع کے مطابق شہاب الدین نے استعفے کی وجہ بگڑتی ہوئی صحت بتائی ہے جبکہ استعفے کی اصل وجہ ان کی شیخ حسینہ واجد کو خفیہ ٹیلی فون کال ہے،

بنگلہ دیشی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس بھی یہی بتاتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک خفیہ فون کال اور ان کے ڈھاکہ واپسی کے منصوبے نے صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔

اپریل 2023 میں بنگلہ دیش کی صدارت سنبھالنے والے محمد شہاب الدین کو 2028 تک کام کرنا تھا لیکن انہوں نے 3 سال 3 ماہ کی صدارت کے بعد ہی استعفیٰ دے دیا۔

بنگلہ دیشی آئین کے مطابق انہوں نے اپنا استعفی قومی اسمبلی کے سپیکر حافظ الدین احمد کو پیش کیا جو حال ہی میں تھائی لینڈ سے علاج کروا کر واپس آئے تھے۔

بنگلا دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب میڈیا کی جانب سے ان سے استعفیٰ کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہوں، میرے پاس اس وقت مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ انہوں نے بیماری کو بہانا بتایا ہو لیکن اسے سیاسی دباؤ اور بغاوت کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔

محمد شہاب الدین جب 2023 میں صدر منتخب ہوئے اس وقت  عوامی لیگ اقتدار میں تھی،

اطلاعات کے مطابق عوامی لیگ سے تعلق کے باعث  بی این پی کی حکومت شہاب الدین پر استعفیٰ دینے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہی تھی۔ شیخ حسینہ واجد سے رابطے کے بعد سے حکومت کی جانب سے ان پر استعفے کے لیے دباو میں اضافہ ہو گیا تھا،

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.