تحریک انصاف کی جانب سے آج اسلام آباد میں بڑے احتجاج کا خدشہ،صورتحال سنجیدہ
عوام آج بھی فون سروس کے علاوہ بلا تکلیف سفری سہولیات سے محروم رہیں گے ،
اسلام آباد:تحریک انصاف کے احتجاج کا خوف آج بھی وفاقی دارلحکومت پر چھایا رہے گا جس کی وجہ سے یہ شہر بدستور کنٹینروں کے حصار میں رہے گا اور عوام فون سروس کے علاوہ بلا تکلیف سفری سہولیات سے محروم رہیں گے ،
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا لیکن مقررہ تاریخ پر یہ احتجاج مکمل نہ ہو سکا ،

پی ٹی آئی اس احتجاج کے لیے دن بھر وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا انتظار کرتی رہی جنھوں نے اس احتجاج کو لیڈ کرنا تھا،لیکن وہ رات گئے تک اسلام آباد نہ پہنچ پائے،
علی امین گنڈا پور جو پشاور ہائیکورٹ سے دو مقدمات میں ضمانت قبل ازگرفتاری لے کر روانہ ہوئے تھے جمعہ کے روز اسلام آباد نہیں پہنچ پائے،
انھوں نے حکومت پر قانون نافذ کرنے والوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنے کے لیے رات اسلام آباد سے باہر قیام کرنے اور ہفتے کے روز اسلام آباد آنے کا اعلان کیا۔

اس دوران حکومت نے یہ جانتے ہوئے کہ علی امین گنڈا پور کے ساتھ احتجاجیوں کی بہت زیادہ تعداد نہیں اسلام آباد کی سیکورٹی کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرلیں،
حکومت کی جانب سے فوج کی خدمات حاصل کرنا اسلام آباد پولیس کی صلاحیتوں ہر عدم اعتماد تھا۔ جس سے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرا کہ اگر پولیس چند سو لوگوں کو بھی سنبھال سکتی تو پھر اس محکمے پر سالانہ کروڑوں روپے خرچنے کی کیا ضرورت ہے،

جمعہ کے روز اگرچے پی ٹی آئی کسی بڑی طاقت کا مظاہرہ تو نہ کرسکی، تاہم اس کی جانب سے بلیوایریا ( اسلام آباد)، فیض آباد، 26 نمبر، ٹیکسلا اور دیگر علاقون میں ہلکی بلکی ٹھک ٹک کا سلسلہ جاری رہا جسے پولیس اہلکار شیلنگ کے ذریعے کنٹرول کرتے رہے،