تحریر ۔۔۔ ابنِ سرور
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: امن و امان کی بحالی یا سیاسی بحران میں شدت؟
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے نے صوبے کی سیاست، وفاقی و صوبائی تعلقات اور امن و امان کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس غیرمعمولی اقدام کا جواز صوبے میں مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے لیے مؤثر کردار ادا نہ کرنے کے الزامات کو قرار دیا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو جمہوری مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق فیصلے نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ اس پیش رفت کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات، منتخب حکومت کے مستقبل اور احتجاجی سیاست کے حوالے سے کئی اہم سوالات جنم لے چکے ہیں۔
دہشت گردی کا چیلنج اور حکومتی حکمت عملی پر سوالات
خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی، سرحد پار دراندازی اور سکیورٹی فورسز و شہریوں پر حملوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات ضروری ہو گئے تھے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ صوبے کو درکار وسائل، انتظامی معاونت اور مؤثر تعاون کی فراہمی بھی اس مسئلے کا اہم پہلو ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایمرجنسی اور گورنر راج دہشت گردی کے اس پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل ثابت ہو سکتے ہیں؟ محض انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے دہشت گردی کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد میں اضافہ، مقامی آبادی کا اعتماد اور وفاق و صوبے کے درمیان مربوط حکمت عملی ناگزیر ہیں۔
اگر سیاسی اختلافات سکیورٹی پالیسی پر حاوی رہے تو اس کا نقصان بالآخر عوام کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
گورنر راج کی آئینی حیثیت اور جمہوری مینڈیٹ
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے آئینی حدود، صوبائی خودمختاری اور منتخب نمائندوں کے اختیارات سے متعلق بحث کو بھی تیز کر دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت غیرمعمولی اقدامات کے لیے مخصوص شرائط اور آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت جاری اعلامیے کو دو ماہ کے اندر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری درکار ہوتی ہے، بصورتِ دیگر وہ مؤثر نہیں رہتا؛ اس کے نفاذ کی مجموعی مدت بھی آئینی حدود کے تابع ہے۔
اس لیے اس فیصلے کا جائزہ صرف سیاسی ضرورت کے دعوے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ آئینی جواز، پارلیمانی نگرانی، عدالتی جائزے اور شہری حقوق کے تناظر میں بھی لیا جائے گا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ غیرمعمولی اختیارات کا استعمال کس حد تک آئینی تقاضوں اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ رہتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کی مخالفت
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالتوں، پارلیمان اور عوامی سطح پر جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے فیصلے کی واپسی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر دہشت گردی کی بنیاد پر گورنر راج ضروری سمجھا گیا تو بلوچستان کی صورتحال کو اسی معیار پر کیوں نہیں پرکھا گیا؟ یہ سوال وفاقی حکومت کے لیے پالیسی کے یکساں اطلاق اور فیصلے کے جواز کی وضاحت کے حوالے سے اہم ہے۔ تاہم دونوں صوبوں کی سکیورٹی، انتظامی اور آئینی صورتحال کا تقابلی جائزہ مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔
احتجاجی سیاست اور امن و امان کو درپیش خطرات
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاجی ردعمل اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات نے سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھایا ہے۔
ایسے حالات میں حکومت کے لیے دوہرا چیلنج موجود ہے: ایک طرف دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا اور دوسری طرف سیاسی احتجاج کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سنبھالنا۔ احتجاج کے حق اور شہریوں کی نقل و حرکت کا تحفظ بھی اہم ہے، جبکہ تشدد، املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون شکنی کی صورت میں قانون کا غیرامتیازی اطلاق ضروری ہے۔
اگر سیاسی فریقین ایک دوسرے کو مکمل طور …
اگر سیاسی فریقین ایک دوسرے کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی پالیسی جاری رکھتے ہیں تو مذاکرات کے امکانات محدود اور تصادم کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
عوام کہاں کھڑے ہیں؟
اس سیاسی بحران کا سب سے اہم پہلو خیبر پختونخوا کے عام شہریوں کی مشکلات ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو پہلے ہی جان و مال کے تحفظ، روزگار، تعلیم، صحت اور معمولاتِ زندگی کی بحالی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ مزید سیاسی کشیدگی، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور غیر یقینی صورتحال ان مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
عوام کو اس بات سے غرض ہے کہ ان کے علاقوں میں امن قائم ہو، بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو، کاروبار چلتا رہے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی کارکردگی کو سیاسی بیانات کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
خیبر پختونخوا کی صورتحال کا پائیدار حل طاقت کے استعمال یا سیاسی دباؤ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ وفاقی حکومت کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی جواز، دائرۂ اختیار اور مدت کے بارے میں واضح مؤقف پیش کرنا ہوگا۔ پارلیمان کو اس فیصلے پر مؤثر بحث اور نگرانی کا کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ اپوزیشن کو بھی دہشت گردی کے خلاف قابلِ عمل تجاویز اور سیاسی مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
عدالتی راستہ اختیار کرنے والے فریقین کے لیے ضروری ہے کہ آئینی سوالات کا فیصلہ قانونی فورمز پر ہونے دیا جائے۔ اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو صوبے میں مزید تشدد یا ادارہ جاتی تصادم کا سبب بنیں۔
نتیجہ: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا اصل امتحان سیاسی مخالفین کو دبانا نہیں، بلکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا، دہشت گردی میں کمی لانا اور آئینی و جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ہے۔ اگر اس فیصلے کے نتیجے میں امن و امان بہتر ہوتا ہے تو اس کی کامیابی کو زمینی حقائق سے جانچا جائے گا؛ لیکن اگر سیاسی محاذ آرائی بڑھی اور عوام کے مسائل جوں کے توں رہے تو اس غیرمعمولی اقدام کے جواز اور نتائج پر سوالات مزید شدت اختیار کریں گے۔