تحریر ۔۔۔ ابنِ سرور
اسلام آباد: اکاونٹینٹ وزیر خارجہ اسحاق ڈارجو بدقستمی سے اس ملک کے نائب وزیر اعظم بھی ہیں نے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث ملک کی خارجہ پالیسی کا جنازہ نکال دیا،
ان کی اس ناتجربہ کاری کا بھانڈا پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے اپنے وی لاگ کے ذریعے پھوڑا اور ساری کہانی اپنے ناظرین کے سامنے لا کر رکھ دی،
ان کے مطابق وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم نے میڈیا نمائندگان کے ایک گروپ کو مدعو کر کے جس طرح کی گفتگو کی وہ ان کی حماقت اور نہ تجربہ کاری کے علاوہ کچھ نہ تھا ، ان کی جگہ اگر کوئی فارن سروس سے واقفیت رکھنے والا اور سفارت کاری کو سمجھنے والا وزیر خارجہ ہوتا وہ کبھی اس طرح کی حرکت نہ کرتا جیسی اکاونٹننٹ وزیر خارجہ نے کی،
انھوں نے درحقیقت اپنے منظور نظر صحافیوں کو اس حوالے سے مواد فیڈ کرنے اور مرضی کی خبریں لگوانے کی کوشش کی جو فائر بیک کر گئی ، ن لیگ کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ اس نے اپنے گرد مخصوص سوچ کے حامل صحافیوں کا ٹولہ جمع کیے رکھا جو اس کی ہر اچھی بری بات پر تعریفوں کے قلابے ملاتا اور اس کے عوض بھاری فائدے اٹھاتا رہا ہے ،
لیکن اس مرتبہ اسحاق ڈار کو اپنے ہم خیال پہچانے میں غلطی ہوئی کیونکہ ان کی جانب سے کچھ ایسے لوگ بھی مدعو کر لیے گئے جنھوں نے بعد ازاں ساری کہانی شہباز گل کے سامنے کھول کر رکھ دی، اور ان کی لٹیا ڈبو دی،
اب سب سے پہلے تو اسحاق ڈار کو اپنے مہمانوں سے گلا کرنا چاہیے کہ انھوں نے گفتگو کو لیگ کر کے ان کی بے عزتی کا سامان کیون پیدا کیا اور دوسرا وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنے نائب سے پوچھنا چاہیے کہ انھوں نے اس طرح کی حرکت کیوں فرمائی جس نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کی بنیاد رکھی، ہونا تو یہ چاہیے کہ اس حماقت پر وزیر اعظم اسحاڈار کو وزیر خارجہ کہ عہدے سے فارغ کر دیں
ابھی تو شہباز گل نے ان کی یو اے ای کے بارے میں گفتگو کا بھانڈا پھوڑا اور سعودی عرب اور ایران کے بارے میں ان کی گفتگو کو چھپا گئے، اگر وہ اس گفتگو کو بھی سامنے لے آتے تو پھر نجانے کیا ہوتا،
سفارتی ماہرین کے مطابق اسحاق ڈار کو یو اے ای کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا خیال کرنا چاہیے تھا کہ یو اے ای کی جانب سے 2019ء میں سیف ڈیپازٹ کے لیے 2 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی گئی تھی اور اس کی معیاد ختم ہونے کے بعد وہ اس کو حکومت کی درخواست پر رول اوور کرتا چلا آ رہا تھا، اور اب جب امریکہ ، ایران جنگ کے بعد اس کی حالت پتلی ہے اور اس کو رقم کی ضرورت ہے تو ہمین شکریے کے ساتھ یہ رقم واپس کر دینی چاہیے تاکہ آئندہ کے لیے بھی راستہ کھلا رہتا اور تعلقات پر بھی کوئی حرف نہ آتا،
لیکن نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی اس پھرتی نے ہماری نام نہاد تجربہ کار حکومت کی تجربہ کاری کی قلعی کھول کر رکھ دی،باوجود اس کے کہ حکومت نے یو اے ای کو تمام رقم لوٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اسے فائدہ اٹھانا اور اسے نارمل ہی صحیح مگر ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تھے مگر اسحاق ڈار نے اپنی پھرتیوں نے اس موقعہ کو ضائع کر دیا اور ان کی سفارت کاری کے تقاضوں سے ناواقفیت کو بھی عیاں کر دیا جس کا غمیازہ نہ نجانے کب تک بھگتنا پڑے گا۔