The news is by your side.

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم

معاہدے کے نکات پر اتفاق نہ ہو سکا، حکومت کا اپوزیشن مطالبات تسلیم کرنے سے انکار، تحریک انصاف کا لانگ مارچ نہ روکنے کا اعلان،

0

ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے کے نکات میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، فریقین نے ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دے دیا،

ذرائع کا کہنا تھا کہ  اپوزیشن کے بڑے مطالبات جن مین بانی سے پارٹی رہنماوں کی ملاقات ، بانی کے علاج کی بہترسہولیات ، ان کی بہنوں کی رہائی شامل تھے کے بارے میں حکومت کی جانب سے  کوئی واضح یقین دہانی نہ کرائے جانے پر مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہو سکے،

مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس کا کہنا ہے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، بانی سے ملاقات ہونے تک معاملات فائنل نہیں ہوں گے، کافی چیزوں پر بات چیت ہو گئی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیر سٹر گوہر نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کو کامیاب ہونا چاہیے تھا، ہمارا لانگ مارچ انٹیکٹ ہے، لانگ مارچ ہوگا، لانگ مارچ کی آڑ میں کوئی ایسا اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے صوبہ کی عوام میں تناؤ پیدا ہو۔

لانگ مارچ ہمارا حق ہے، سب سے کہوں گا کہ لانگ مارچ کو نہ روکیں، لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔

مشیر وزیراعظم  رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے، دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کے کردار کی یقین دہانی سے انکاری رہے۔

رانا ثنا نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا، کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں، 4 مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا، دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، تحریک انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں، عوام کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے۔

قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف زرداری سے ملاقات بھی کی، وزیر داخلہ نے مسودہ پر اعلیٰ سیاسی قیادت اور قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔

حکومت کی جانب سے محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چودھری، طارق فضل چودھری مذاکراتی ٹیم میں شریک تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی کیلئے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی نے حصہ لیا۔

اپوزیشن رہنماؤں میں بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر شامل تھے، سپیکر نے ذاتی خرچ سے حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.