عمران خان بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ، حکومت بوکھلاہٹ کا شکار
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان کر دیا، حکومت کی بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے میں روڑے اٹکانے کی کوششیں
اسلام آباد: بانی تحر ایک انصاف عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے جہاں تحریک انصاف کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں حکومت کے پسینے چھوٹ گئے ، وفاقی وزیر قانون کا فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت عظمی سے رجوع کرنے کا اعلان،
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آج صبح عمران خؒان کے علاج معالجے سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ عمران خان کو علاج کے لیے فوری طور پر الشفاء پسپتال منتقل کیا جائے ، ان کے علاج کے لیے سینئر اور تجربہ کار ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا گیا,
بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلیہ، آنکھوں کے ماہر اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی طبی معائنے اور علاج میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔
جونہی عدالت عظمی کی جانب سے یہ فیصلہ آیا حکومتی وزراء کی جانب سے چیخ و پکار شروع ہو گئی اور پریس کانفرنسوں کی لائن لگ گئی،
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں وزیر قانون نے سلجھے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت عظمی جانے کا اعلان کیا ، لیکن جس طرح وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس کی اس سے انداز ہو گیا کہ حکومت کے پیسنے چھوٹ گئے ہیں ، پھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جس نوعیت کا بیان جاری کیا اس نے حکومت کی بوکھلاہٹ کے تاثر کی تصدیق کر دی،
ایسے میں بلاول بھٹو کی اس تقریر کے حوالے سے چے میگوئیاں شروع ہو گئین کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے،