The news is by your side.

پاکستان موسمی خطرات کی زد میں، ستمبر میں مون سون کا بڑا سپیل متوقع

ملک میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پر وزیر اعظم کی زیرصدارت جائزہ اجلاس، موسم کے منفی اثرات سے بچاو کے اقدامات پر غور

0

اسلام آباد: ملک میں جاری مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس , وزیر اعظم نے صدارت کی،

اجلاس کو این ڈی ایم اے، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے حالیہ مون سون اور اس کے نتیجے میں نقصانات، ریسکیو و بحالی کے اقدامات پر بریفنگ .

اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو روز میں آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں مون سون بارشوں کے ایک بڑے اسپیل کی توقع ہے. اس کے علاوہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون کا ایک بڑا سپیل بھی متوقع ہے.

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ موجودہ مون سون اسیپل مین اب تک 110 اموات جبکہ 360 لوگ زخمی ہوئے، 796 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 376 مویشی ہلاک ہوئے.

اجلاس کو باتایا گیا کہ موجود گلیشیئرز کے پگھلنے کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے آئندہ ایک ماہ میں گلوف و سیلابی ریلوں کا خطرہ لاحق ہے. ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرکے تمام تر حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.

اجلاس کو بتایا گیا کہ وسطی پنجاب بشمول لاہور میں شہری سیلابی صورتحال پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے گئے جبکہ کچھ علاقوں میں برساتی نالوں میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے زرعی زمین زیر آب ہے جس سے نکاسی کا کام جاری ہے. ڈیرہ غازی خان اور اس ملحقہ علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کی صورتحال اس وقت قابو میں ہے.

مون سون کے دوران برساتی پانی کو سٹور کرنے کے لئے ملک کے مختلف مقامات پر 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاکہ خشک موسم کے دوران وہ پانی زراعت کے لئے استعمال کیا جاسکے۔

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.