The news is by your side.

ایران امریکا کشیدگی پھر بھڑک اٹھی، تہران کا بڑا اعلان، خام تیل 90 ڈالر سے اوپر

واشنگٹن کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔.امریکی حملوں کے بعد ایران نے سخت ردعمل

0

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی کے بعد خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہوگئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔

امریکی حملوں کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر جوابی اقدامات کرے گا۔

ایرانی صدر کے مطابق امریکی دباؤ اور دھمکیوں کا دوبارہ آغاز خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتار سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں صورتحال تشویشناک

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات آبنائے ہرمز تک پہنچ گئے ہیں، جہاں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہوگئی ہے۔

تازہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف چند بحری جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دنوں کی اوسط آمدورفت تقریباً 14 جہاز روزانہ تھی۔

عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے میں سرگرمیوں میں کمی نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

خام تیل کی قیمت 90 ڈالر سے اوپر

مشرق وسطیٰ میں دوبارہ فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی آگئی ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 1.18 ڈالر اضافے کے بعد 91.67 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 1.27 ڈالر اضافے کے ساتھ 87.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو عالمی توانائی منڈی پر اس کے اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔

ایران کا لراک جزیرے پر امریکی حملے کی مذمت

ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے لراک جزیرے پر تازہ امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایرانی نمائندے کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کو درپیش خطرات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کا جارحانہ طرزِ عمل ہے۔

ایران کا دفاعی ڈھانچہ مزید مضبوط کرنے کا دعویٰ

ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے دوران متاثر ہونے والے فوجی مراکز کو زیادہ محفوظ مقامات پر دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے مراکز جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور پیداوار کی شرح بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ ایرانی جنرل نے واضح کیا کہ تہران کی ترجیح جنگ یا مذاکرات نہیں بلکہ مؤثر دفاعی باز deterrence قائم کرنا ہے۔

خطے میں امن کی کوششیں، مگر پیش رفت نہ ہوسکی

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی کوششوں کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

انہوں نے آزادانہ بحری آمدورفت کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری راستے پر ٹول یا فیس عائد نہیں ہونی چاہیے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایک طرف سفارتی رابطے جاری ہیں تو دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں نے جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.