امریکہ کے ایران پر تازہ حملے،حملوں پر پچھتانا پڑے گا، ایرانی حکام
امریکی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملے یکم ستمبر کو تقریباً 1600 جی ایم ٹی پر شروع کیے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے خلاف مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جبکہ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر آٹھ میزائل داغے گئے، جنہیں امریکی دفاعی نظام نے روک لیا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی جزیرے قشم اور بندر عباس کے علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تازہ امریکی حملوں میں ہونے والے جانی نقصان اور تباہی کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں۔
ایران نے امریکی کارروائی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کو اپنے حملوں پر پچھتانا پڑے گا۔ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے تیل کی برآمد روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
یہ تازہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب چند روز قبل امریکہ نے ایرانی جزیرے لارک پر میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
تازہ کشیدگی کا سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز پر پڑ رہا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے۔ امریکی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔