فلم ستلج کی نمائش پر پابندی، بھارتی عوام سراپا احتجاج، حکومت پر کڑی تنقید،
فلم کو نمائش کے چند گھنٹوں بعد ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’زی فائیو‘ سے ہٹا لیا گیا،
بھارت میں دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ، فلم کو چند گھنٹوں کے بعد ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم ’زی فائیو‘ سے ہٹا لیا گیا ، ستلج پر پابندی بھارت میں موضوع بحث بن گئی ، عوام کی مودی حکومت پر تنقید جبکہ دلجیت دوسانجھ کا کہنا ہے کہ حکومت کا فلم کو ہٹانے کا اقدام غیر متوقع نہیں تاہم ہمارا مقصد پورا ہو گیا،
واضح رہے کہ یہ فلم انسانی حقوق کے رہنما جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے اور برسوں سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔
جسونت سنگھ کھالڑا نے پنجاب میں لاپتہ ہونے والے سکھ نوجوانوں کے حوالے سے اس حقیقت کو بے نقاب کیا جس میں نوجوانوں کو اغوا کر کے قتل کر دیا جاتا اور پھر انھیں لاپتہ قرار دے کر ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگا دیا جاتا،
ایک اندازے کے مطابق ایسے نوجوانوں کی تعداد 25ہزار تھی جن کے والدین یا دیگر اہل خانہ ان کو انتظار ہی کرتے رہ جاتے تھے،
یہ فلم پنجاب پولیس کے غیر انسانی رویے اور حکومت وقت کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے،
فلم کا اصل نام ‘پنجاب 95’ تھا، جسے 2022 میں سنسر بورڈ کو بھیجا گیا تھا لیکن یہ تین سال تک سرٹیفیکیشن کے عمل میں پھنسی رہی۔
ہدایت کار کے مطابق سنسر بورڈ نے فلم میں 127 کٹس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، اور بھارتی حکام کے اعتراضات کے باعث 2023 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔
برسوں کی تاخیر کے بعد، فلم کو بالآخر کو ’ستلج‘کے نام سے زی فائیو پر ریلیز کیا گیا تھا، لیکن ریلیز کے فوراً بعد ہی اسے بھارتی صارفین کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔