امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط،
دستخط کے بعد معاہدے پر فوری عملدرآمد کا آغاز ہو گیا، فوری نفاذ کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا،
اسلام آباد: امریکہ اور ایران نے قیام امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ،
مفاہمتی یادداشت پر دستخط دونوں ملکوں کے صدور کی جانب سے کیے گئے جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہوگیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔
سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا، کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
وائٹ ہاؤس کے مطابق بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے مفاہمتی یادداشت دستخط کیے، جبکہ اتوار کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے بھی دستخط کیے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی دستخط کی تصدیق
اسلام آباد ایم او یو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، امریکا بحری ناکہ بندی ختم،ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بطور ثالث میں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے، تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز 19 جون سے ہو گا۔
صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے تاریخی سفارتی کردار ادا کیا۔