مودی کا دورہ حکومت، بھارت میں آزادی صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا،
بھارت میں جمہوریت کے چہرے پر سنسر شپ کا نقاب چڑھ چکا، کسی ایم ایل اے یا ایم پی اے سے سخت سوال کرنا جرم بن گیا، احتساب کا تصور ناپید ہو گیا، صھافی خوف و حراض کا شکار
اسلام آباد: بھارت میں آزادی صحافت پر بیحد سوال اٹھنے لگے، حق اور سچ لکھنے اور بولنے والے صحافیوں کا چینا محال، صرف گودی میڈیا کے مزے،
مودی کے دورہ حکومت میں بھارت کا سیکولر چہرہ یہی نہیں بگڑا بلکہ آزادی صحافت کی دھجیاں اُڑ کر رہ گئیں،بھارت کا یہی وہ مکروہ چہرہ ہے جس نے نریندر مودی کے حالیہ دورہ پورپ کو بھی متاثر کیا،
مودی یورپی میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا سامنا نہ کرسکے اور دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے،
بھارت میں میڈیا کی آزادی کی تازہ صورتحال کے حوالے سے بھارتی خاتون صحافی تنوشیر پانڈےنے اپنے ایکس اکاونٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں صھافت اس وقت بدترین قدغن کا شکار ہے اور یہاں حقیقت مین اس وقت آزادی صحافت نام کی کوئی چیز نہیں ،
ناروے کی ایک صحافی کی جانب سے وزیر اعظم مودی سے پوچھے گئے سوال کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ناروے کے صحافیوں کو ضرورت نہیں کہ وہ ہمیں بھارت میں آزادی صحافت کے حوالے سے کچھ بتائیں،
انھوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت احتساب کا کوئی تصور نہیں، یہاں کسی ایم ایل اے یا ایم پی اے سے کوئی صحافی اس وقت کوئی سخت سوال پوچھنے کی جرت نہیں کر سکتا،
اگر کوئی یہ جرت کرے بھی تو یہ لوگ اس کے گھر پر غنڈے بھیجوا دیں گے،اس کو دھمکیاں ملیں گی، اس کے سوشل میڈیا اکاونٹس بند کروا دیے جائیں گے،یا ان کو سلو کر دیا جائے گا ،
مس پانڈے نے کہا کہ کوئی بعید نہیں کہ یہاں ایسا وقت بھی آ جائے کہ جب صحافیوں کو جان سے مارنا شروع کر دیا جائے پھر بھی یہاں کے صحافی کچھ نہیں بول پائیں گے