امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ حملہ موخر کر دیا،
حملہ سعودی عرب ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر موخر کیا، تاہم امریکی افواج کو تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہےِ، حملہ 24 سے 48 گھنٹوں میں ہونا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ۔
اسلام آباد: ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات کے لیے پاکستان کے راستے تجاویز کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب دونون ملک ایک دوسرے کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ اعلان کے مطابق انھوں نے ایران پر طے شدہ حملہ موخر کر دیا ہے ،
امریکی صدر کے مطابق قطر ، سعودی عرب اور یو اے ای نے انھیں یہ فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی،یہ حملہ کل ہونے والا تھا، تاہم امریکی صدر نے حملہ موخر کرنے کے باوجود اپنی افواج کو دیے گئے تیار رہنے کے حکم کو برقرار رکھا ہے،
اس صورتحال میں جنگ کی بجائے مزاکرات کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے بھی ایک بار پھر اپنی ثالثی کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے اور اس کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی ان دونون ایران کے دورے پر ہیں جہاں وہ اہم ملاقاتوں مین مصروف ہیں،
محسن نقوی نے ایک روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی جس کے بعد انھوں وہ پیر کے روز وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی،
اس دورے کے دوران ایرانی نے امریکی تجاویز کے جواب میں ایرانی نے 14 نکات پر مشتمل جوابی تجاویز کا مسودہ پاکستان کے حوالے کیا جسے امریکہ کو بھجوا دیا گیا ہے،
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا کہ مزاکرات کا مطلب شکست تسلیم کونا نہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی تجاویز میں ایران کی جانب سے نیوکلئر پروگرام کے بارے میں بڑی پیش رفت متوقع ہے، جس کے باعث مزاکرات کے دوسرے دور کا انعقاد ہو سکتا ہے