ہیلن لینگ کے سوال نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ یورپ برباد کر دیا،
بھارت میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر مودی کا عالمی میڈیا کا سامنا کرنے سے گریز ، مودی کی انتہا پسندانہ سوچ دنیا میں بھارت کی بدنامی کا باعث بن گئی ،۔
اسلام آباد: ناروے کی صحافی ہیلن لینگ کے ایک سوال نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ یورپ کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا، ہیلن کا سوال مودی کے دورے پر حاوی ٰآ گیا ہے ،
گودی میڈیا کو ہیلن کے سوال پر شدید مرچین لگی ہوئی ہیں جبکہ سوشل میڈیا ہینڈلرز اس صورتحال پر مودی کی کلاس لینے میں مصروف ہیں،
بھارتی میڈیا میں ہر طرف ہیلن لینگ کے سوال اور مودی کی جانب سے سوال کا جواب نہ دینے کے چرچے ہیں
ان کا سوال ان کی عالمی سظح پر شہرت کا باعث بن گیا ہے، بھارت میں ان کی ایسی تیسی بھی ہو رہی ہے اور تعریف بھی،
ان کے خلاف ہونے والے منفی پراپیگنڈے نے ان کو سوشل میڈیا پر آ کر اپنی پوزیشن کی وضاحت پر بھی مجبور کیا کیونکہ گودی میڈیا انھیں کسی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ ثابت کرنے اور ان کے سوال کو مودی کے دورے کو خراب کرنے کی سازش قرار دینے پر جتا ہوا ہے،
اس پراپیگنڈے کا جواب دینے کے علاوہ ہیلن ان ہزاروں لوگوں کا شکریہ بھی ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں جنھوں نے ان کے سوال ہی نہیں بلکہ ان کی جرت کو بھی سراہا ہے۔
ہیلن کا سوال بھی تو ایسا تھا جس کا جواب دینے کی نریندر مودی کی جرت ہو بھی نہیں سکتی تھی ، ہیلن کا سوال بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور یہاں بسنے والی اقلیتوں کی حالت زار اور ناروے کی جانب سے بھارت پر اعتماد کے حوالے سے تھا، اس نے یہ بھی سوال کر لیا تھا کہ آپ دنیا کے ازاد پریس کا سامنا نہ کرنے کے حوالے سے تھا،
مودی کے دور مین بھارت میں نہ تو انسانی حقوق ہیں اور نہ ہی وہاں اقلیتیں محفوظ ہیں، تو وہ سوال کا سامنا کیسے کرتے،