پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اور صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات، معاہدہ غیر یقینی ؟
ایرانی تحفظات گہرے کیا، امریکی ناکہ بندی ختم نہ ہونے پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند، معاہدے کی تاریخین بھی طے نہ ہو سکیں،
اسلام آباد: مشرق وسطی کے بحران کے حل کےلیے ایک جانب پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تو دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسسلسل جارحانہ بیانات نے صورتحال کو کنفیوز کر دیا،
امریکی صدر کے غلط دعووں کے باعث صورتحال پیچھے کی طرف جاتی دکھائی دینے لگی کیونکہ ایران نے ایک روز بعد ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا جس کی سب سے بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اور ان کی جانب سے نہ رکنے والے بیانات ہیں کو صورتحال کو کنفیوز کیے دے رہے ہیں،
گذشتہ روز دیے گئے اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بہت اچھے مذاکرات چل رہے ہیں پھر دوسری جانب کہنے لگے کہ ایران ، امریکہ کو بلیک میل نہیں کر سکتا اور یہ کہ ایران 47 برسوں میں ہونے والے قتل کے جرائم سے نہیں بچ سکے گا،
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے ان بیانات نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے مثبت نتائج کو متاثر کیا ہے ،
ذرائع نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت مثبت سمیت میں آگے بڑھ رہی تھی جسے ڈونلڈ ٹرمپ کے بتانات نے متاثر کیا اور ایران جو پہلے ہی امریکہ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور صرف پاکستان کے کردار کے باعث مذاکرات سے جڑا ہوا ہے کے تحفظات میں اور اضافہ کر دیا،
ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم نہ ہونے پر آبنائے ہرمز کو پھر سے بند کرنے کا فیصلہ کر دیا،
ایک اور ذریعے کا یہ کہنا تھا کہ امریکی صدر اس ظرح کے بیانات کے ذریعے ایران کو دباو مین رکھنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری جانب وہ معاہدے کی کوششوں کو بھی ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ اس کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں ،