افریقی سیاست میں تیونس کا قائدانہ کردار قابل ستائش ہے، مشاہد حسین سید۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام تیونس کے یوم آزادی کے موقع پرتقریب کا انعقاد،مقررین کا پاکستان،تیونس تعلقات اور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اظہار خیال ،
اسلام آباد: تیونس کے یومِ آزادی کی مناسبت سے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب کا انعقاد،سینیٹر مشاہد حسین سید تقریب کے مہمان خصوصی تھے ،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ تیونس افریقی سیاست میں ایک نمایاں اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،
انھوں نے کہا کہ پاکستان اُن اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے تیونس کی آزادی کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرح تیونس بھی فلسطین کا ایک مضبوط حامی ملک ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں اور مختلف شعبوں میں تجارت اور تعاون کو فروغ دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
ضروری ہے کہ تیونس کے ساتھ تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے کیونکہ دونوں ممالک گلوبل ساؤتھ کا حصہ ہیں۔
تیونس کی استقامت اور قیادت کو سراہتے ہوئے انہوں نے تجارت،ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور ثقافتی تبادلوں کو مضبوط بنانے اور عوامی سطح پر روابط اور کاروباری شراکت داری کو فروغ دینے کی حمایت کرتے ہیں۔
تیونس کی ناظم الامور محترمہ دوراسف معاروفی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیونس اور پاکستان کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات موجود ہیں، خصوصاً اقوامِ متحدہ میں تیونس کے لیے پاکستان کی حمایت قابلِ ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہآج کی تقریب دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کے تسلسل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے ترجیحی تجارتی معاہدے کے ذریعے تجارت کے فروغ، ثقافتی اور سیاحتی روابط کے فروغ اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے تیونس کی آرگینک زیتون کے تیل کی مہارت کو بھی باہمی تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر اجاگر کیا۔