حکومت کا پیٹرولیم کی بچت کے لیے کورونا دور کے فیصلوں پر غور،
ملک میں اس وقت 28 دن کا ڈیزل اور پیٹرول موجود ہے، جبکہ مجموعی طور پر مارچ کے آخر تک کے پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں۔ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد؛ حکومت کا پیٹرولیم کی بچت کے لیے کورونا دور کی طرز پر مختلف فیصلوں پر غور، ورک فراہم
ہوم کا دور پھر واپس آنے کا امکان،
حکومت نے مقامی ذرائع سے پھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے عوام سے بھی توانائی کی بچت کو اپنانے کی اپیل کر دی،
وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔
اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت توانائی کی بچت کے لیےمزید ٹھوس اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ عالمی و علاقائی حالات کے پیشِ نظر ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کو باقاعدہ ریگولیٹ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اہم فیصلے فوری طور پر لیے جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور توانائی کے ذخائر پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں اس وقت 28 دن کا ڈیزل اور پیٹرول موجود ہے، جبکہ مجموعی طور پر مارچ کے آخر تک کے پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک میں تیل و گیس کی کوئی قلت نہیں ہے، تاہم علاقائی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے ملاقات کی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے خطے کی صورتحال اور تیل سپلائی پر ہنگامی ضرورت کے پیش نظر پاکستان سے بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔