بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل، پاکستان کی گہری نظر۔
دونوں ممالک نے17 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کیے ، خطے کی صورتحال بلخصوص غزہ کی صورتحال پر غور، متفقہ نکتہ نظر پر اتفاق، پاکستان سے متعلق ارادوں پر غور،
دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے دہلی واپس پہنچ گئے۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت پر ہوا جب امریکہ اور ایران کے مابین جاری مذاکرات کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مابین ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے17 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کیے۔ جن شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق ہوا ہے، ان میں مصنوعی ذہانت، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، مینوفیکچرنگ، ثقافت، سمندری ورثہ اور زراعت شامل ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ سے بھی خطاب کیا اور اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی مذمت کی، لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کے سکیورٹی مفادات براہ راست مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت غزہ پٹی کے تنازعے کے پُرامن حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا، ’’بھارت اور اسرائیل اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، کسی بھی شکل میں اور کسی بھی اظہار کے ساتھ دہشت گردی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم دہشت گردی اور اس کے حامیوں کی مخالفت میں شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔‘‘
نریندر مودی نے اسرائیل کا یہ دورہ ایسے وقت پر کیا جب مشرق وسطیٰ اور غزہ کے تنازعے کے باعث بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں سفارتی کوششوں اور پالیسیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
۔