سپریم کورٹ میں بانی تحریک انصاف کے 13 مختلف مقدمات کی سماعت کا آغاز۔
چیف جسٹس یجی آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ فریقین اور اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے، جبکہ بانی کی جیل میں موجودہ حالت سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے عمران خان کی 13 مختلف کیسز کی سماعت کا آغاز کیا ،
دورانِ سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملاقات سے متعلق بھی کل فیصلہ کریں گے،
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق کو نوٹس کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی،
سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں تین رکنی بنچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا،اور القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں ان کے علاوہ بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواستیں غیر مؤثر ہونے کی بنا پر خارج کر دیں ،
عدالت نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر بھی تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا، جبکہ سائفر کیس اور 9 مئی واقعات سے متعلق ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ،
ہتکِ عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر بھی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی اور اس کیس میں بھی تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا،
سپریم کورٹ نے لطیف کھوسہ کی بانی پی ٹی آئی سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی، ملاقات کی درخواست پر حکومت کوآج منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے،