The news is by your side.

وفاقی دارلحکومت میں بدترین دہشت گردی 31 معصوم شہری شہید، 170 زخمی۔  

دہشت گردی کا یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں پیش آیا جہاں نماز جمعہ کے لیے بڑی تعداد میں نمازی جمع تھے, شہید اور زخمی ہسپتال منتقل

0

اسلام آباد : وفاقی دارلحکومت میں بدترین دہشت گردی کے نتیجے میں 31 معصوم شہری شہید جبکہ 170 سے زائد ذخمی ہوگئے

دہشت گردی کا یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں پیش آیا جہاں نماز جمعہ کے لیے بڑی تعداد میں نمازی جمع تھے,

سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گرد کو مشکوک جان کر امام بارگاہ کے گیٹ پر ہی روکنے کی کوشش کی گئی جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا  لیا،

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنی گئی، لاشوں اور زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ علاقے کا محاصرہ کر لیا،

شہید اور زخمی ہونے والون کو فوری طور پر ہسپتال متقل کر دیا گیا، کئی افراد کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے شہادتوں کی تعداد میں اجافہ متوقع ہے

اب تک کی اطلاعات کے مطابق 31 افراد شہید ہو چکے ہیں  جبکہ متعدد نمازی زخمی ہیں –

حکومتی ذرائع کے مطابق خود کُش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق خود کُش بمبار  کا تعلق افغانستان سے ہے جو متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔

افغانستان میں موجود مختلف دہشگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ حکومتی ذرائع

پاکستان میں ہر دہشتگردانہ کاروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مساجد اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے،

دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ،

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.