پاکستان پیپلزپارٹی نے پی آئی اے کی فروخت کو سراسر فراڈ قراردے دیا،
135 ارب روپے مالیت کی پی آئی اے کو بیچ کر صرف 10 ارب روپے حاصل کرنا فراد نہیں تو کیا ہے ، سینٹر پلوشہ بہرام اور چوہدری منظور کی پریس کانفرنس ،
اسلام آباد:
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کی نجکاری پالیسیوں اور پی ٹی آئی کی سیاسی حرکات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ
پیپلز پارٹی نے سیاسی روایات کے مطابق پی ٹی آئی کے ایک رہنما کو گھر بلا کر عزت دی۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی رہنما نے گالیوں کا سلسلہ جاری رکھا، تاہم پیپلز پارٹی نے ان کے کسی پروگرام کو منسوخ نہیں کیا۔
چوہدری منظور احمد نے سینیٹر پلوشہ خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو نجکاری کی غیر معمولی جلدی ہے۔ نجکاری کے ذریعے خسارے کو نیشنلائز اور منافع کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ حکومت پی آئی اے کو فروخت کر کے بڑے دعوے کر رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ 135 ارب روپے مالیت کی پی آئی اے کو بیچ کر صرف 10 ارب روپے حاصل کیے گئے، جو سراسر فراڈ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انگلینڈ سے پی آئی اے کو 40 فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ نواز شریف کے دور میں دنیا بھر کی ایئرلائنز کو کھلی اجازت دے کر پی آئی اے کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں پائلٹس کے لائسنس کے مسائل نے پی آئی اے کو مزید نقصان پہنچایا۔ 73 ملین ڈالر کا منافع بخش روٹ قطر کو بیچا گیا۔ اسلام آباد بلیو ایریا میں پی آئی اے کی کمرشل پراپرٹی کی قیمت 205 ملین لگائی گئی، جبکہ دنیا بھر میں پی آئی اے کی عمارتیں انتہائی کم قیمت پر فروخت کی گئیں۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت نے کل ایک آرڈیننس صدر مملکت کے دستخط کے بغیر جاری کیا، جس میں صدر آصف علی زرداری کو بھی دھوکا دیا گیا۔ یہ پہلی بار ہے کہ جعلی آرڈیننس جاری ہوا،