The news is by your side.

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا دورہ شکرپڑیاں،

بڑی تعداد میں کاٹے گئے درختوں کے مقامات اور کٹائی کی وجوحات کا جائزہ لیا، سی ڈی اے کی جانب سے وفاقی وزیر کو بریفنگ بھی دی گئی،

0

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے منگل کے روز اسلام آباد کے شکرپڑیاں جنگل میں ان مقامات کا دورہ کیا جہاں کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بڑی تعداد میں درخت کاٹے تھے اور جس پر عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا۔

اس موقعے پر وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے حکام نے ان کو تفصیلی بریفنگ دی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ جنگل سے صرف پیپر ملبری (پولن الرجی پھیلانے والا کاغذی توت) کے درختوں کو باقاعدہ نشاندہی کے بعد کاٹا گیا تھا اور وہ آج یہاں دیکھنے آئے ہیں کہ کیا واقعی یہ بات درست ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں واقعی درمیان میں چیدہ چیدہ کچھ درخت نظر آ رہے ہیں جو نہیں کاٹے گئے کیونکہ وہ نقصان دہ نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک یہ کہ پیپر ملبری کے درختوں سے الرجی اور بیماریوں کے حوالے سے جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے 30 سے 37 فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں اس کا ڈیٹا فراہم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیٹا جلد موصول ہو جائے گا اور اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر 3 مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیق (اسٹڈیز) بھی مانگی گئی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ پیپر ملبری کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی موجود ہے۔

یہ علاقہ شکرپڑیاں میں تقریباً 3400 ایکڑ پر مشتمل جنگلاتی رقبہ ہے جس میں سے تقریباً 27 ایکڑ پر کٹائی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ای پی اے کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی جس کے لیے ای پی اے کی اجازت حاصل نہ کی گئی ہو

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.