سہیل آفریدی کی وزیر اعلی کے عہدے کے لیے نامزدگی، ملکی سیاست میں نئی ہلچل،
وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کا وزیر اعلی کے عہدے پر انتخاب روکنے کا اعلان کر دیا،
پشاور : بانی تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی تبدیلی کے فیصلے کے حوالے سے جیل میں بیٹھ کر کیے گئے فیصلے نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کر دی ،
سہیل آفریدی کو وزیر اعلی بنانے کے فیصلے پر حکومتی ایوانوں میں بہت ہلچل پائی جا رہی ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما بانی کے اس فیصلے کو مثبت قرار دے رہے ہیں،
پی ٹی آئی کی اکثریت جس کا اعتماد سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور پر سے اٹھ چکا تھا وہ کم از کم ان کے جانے سے مطمئن ہے اور خان کے اس فیصلے کو بروقت قرار دے رہی ہے،
پارٹی کے قائدین نے بھی سہیل آفریدی کی نامزدگی کو خان کا ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دیا ہے اور ان کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے،
ادھر حکومتی صفوں میں وزیر اعلی کے عہدے پر سہیل آفریدی کی نامزدگی پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے سہیل آفریدی کو وزیر اعلی کے امیدوار کے طور پر لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو دہشتگردوں کو مکمل طور پر اسپورٹ کرنے اور انہیں مکمل سہولتکاری دینے کے لیے لایا گیا ہے، ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے، کی پی حکومت اور تحریک انصاف کو واضح طور پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے اور بنتی رہے گی، پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کابل میں نہیں بنے گی۔